.

آبنائے باب المندب سے سعودی عرب کے تیل کی دوبارہ برآمد کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب کے ذریعے آج ہفتے کے روز سے دوبارہ تیل بردار بحری جہاز دوسرے ممالک کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

خالد الفالح نے کہا کہ بحیرہ احمر میں اس آبی گذرگاہ سے خام تیل کی برآمد بحال کرنے کا فیصلہ عرب اتحاد کی جانب سے تمام سکیورٹی انتظامات کی تکمیل کے بعد کیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے 26 جولائی کو یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کے بحیرہ احمر میں اپنے دو تیل بردار بڑے جہازوں پر حملے کے بعد آبنائے با ب المندب سے اپنے تیل کی برآمد ات کو روک دیا تھا۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ اس سے آبنائے باب المندب اور بحر ہ احمر مںع بن الاقوامی جہاز رانی کو درپشے خطرات بڑھ گئے ہںم ۔سعودی کابینہ نے اگلے روز الحدیدہ کی گورنری اور اس کی بندرگاہ کو یینگ حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اس کو بنر الاقوامی تجارتی جہازوں پر دہشت گردی کے حملوں کے لےگ ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔