.

ایرانی مظاہرین کا تہران کے نزدیک واقع صوبہ میں مذہبی اسکول پر حملہ

مظاہرین کی عبادت گاہ میں گھس کر توڑ پھوڑ ، مذہبی علامتیں گرا دیں ، پولیس نے متعدد کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کے نزدیک واقع صوبے کرج میں مظاہرین نے ایک مذہبی اسکول پر حملہ کیا ہے ،انھوں نے وہاں توڑ پھوڑ کی ہے اور وہاں رکھی اشیاء کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی فارس کی اطلاع کے مطابق جمعہ کی شب 9 بجے کے قریب مظاہرین نے صوبہ کرج میں واقع ایک قصبے استشہاد میں اس مذہبی اسکول پر حملہ کیا تھا۔انھوں نے عمارت کے دروازے اور کھڑکیاں توڑنے کی کوشش کی۔اس اسکول کے سربراہ حجۃ الاسلام ہندیانی نے بتایا ہے کہ مظاہرین کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ تھی ۔ وہ نظام کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے لیکن پولیس نے انھیں منتشر کردیا تھا۔ان میں بعض مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حجۃ الاسلام ہندیانی نے بتایا ہے کہ ’’یہ لوگ پتھرو ں کے ساتھ آئے تھے اور انھوں نے عبادت گاہ کی تمام کھڑکیوں اور وہاں لگی علامتوں کو توڑ دیا اور وہ نظام کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے‘‘۔

کرج کے علاوہ ایران کے شہروں اصفہان ، شیراز ، مشہد اور تہران میں بھی گذشتہ کئی روز سے ملک کی ابتر معیشت اور شہریوں کے پست معیار ِزندگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ وہ ملک میں نافذ سیاسی نظام کے خلاف بھی اپنے غیظ وغضب کا اظہار کررہے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کا شمار ایران کے قدامت پرست ذرائع ابلاغ میں ہوتا ہے ۔ماضی میں یہ میڈیا ذرائع حساس مذہبی علامات اور مذہبی عمارتو ں کے خلاف مظاہرین کے حملوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں تاکہ حکومت اور نظام سے نالاں ایرانیوں کی احتجاجی تحریک کو سبو تاژ کیا جاسکے۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں احتجاجی مظاہرین کو ’’ مرگ بر آمر‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے جاسکتا ہے۔تاہم غیرملکی میڈیا پر ’’غیر مجاز‘‘ مظاہروں کو مشاہدہ کرنے اور ان کی عکس بندی پر پابندی عاید ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مظاہروں کی شد ت دسمبر اور جنوری میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک سے کہیں زیادہ ہے۔تب ایران کے دسیوں شہروں اور قصبوں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران میں پچیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا کی مئی میں جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد سے ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور ایرانی ریال گذشتہ چارماہ میں اپنی نصف سے زیادہ قیمت کھو بیٹھا ہے۔امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا 6 اگست سے نفاذ ہو رہا ہے جس کے بعد ایرانی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔