.

ایران سے کاروبار بند کردیں ، ورنہ سخت پابندیاں : امریکا کا یورپ کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس اور ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے یورپی شراکت دارو ں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار بند کردیں ، ورنہ دوسری صورت میں انھیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی ویب گاہ فری بیکن نے ہفتے کے روز ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کے لیے یہ انتباہی موقف رپورٹ کیا ہے۔امریکی انتظامیہ کے بعض سینیر عہدے داروں اور کانگریس کے بعض ارکان ایران پر سخت پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے قبل سخت بیانات جاری کررہے ہیں ۔

امریکا نے سوموار 6 اگست سے ایران کی تیل کی برآمدات اور بنک کاری نظام سمیت مختلف شعبوں پر پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا اعلان کررکھا ہے جبکہ اس کے یورپی اتحادی ایران کے خلاف ان پابندیوں کی بحالی کی مخالفت کررہے ہیں اور انھوں نے ان پابندیوں کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے حالیہ ہفتوں کے دوران میں ا یرانی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا اور اس کے خلاف اس سمجھوتے کے نتیجے میں معطل کردہ اقتصادی پابندیوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سے خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور ایران اپنی تیل کی برآمدات پر پابندیوں کی صورت میں آبنائے ہُرمز سے تیل کی بین الاقوامی تجارت کو بند کرنے کی بھی دھمکی دے چکا ہے۔

امریکا کے سینیر حکام نے فری بیکن کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرا ن کے خلاف نئی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قدغنوں کے نفاذ میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرے گی ۔اس نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بنک بھی ایران سے کوئی لین دین نہیں کرسکیں گے اور اگر کوئی بنک نئی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا تو اس کو بھی قدغنوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جرمنی میں متعیّن امریکی سفیر رچرڈ گرینال نے اس ویب گاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایرانی رجیم نے یورپ میں دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمیں ان کے منصوبوں کی قبل ازوقت جان کاری کے لیے چوکنا رہنا ہوگا اور انھیں کامیابی سے ہم کنار ہونے سے قبل ہی روکنا ہوگا‘‘۔

مسٹر گرینال اور دوسرے اعلیٰ سفارت کاروں نے اپنے یورپی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی رجیم کو رقوم کی ترسیل روکنے میں مدد دیں کیونکہ یہ رقوم تخریبی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

ایران کے ساتھ جولائی 2015ء میں جوہری سمجھوتے کی مخالفت کرنے والے دس امریکی سینٹروں نے یورپی یونین کے تین رکن ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کو ایک خط لکھا ہے اور اس میں انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلا ف امریکا کی نئی پابندیوں کی پاسداری کریں جبکہ یہ تینوں ممالک اور سمجھوتے کے فریق دو اور ممالک روس اور چین ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حق میں نہیں اور وہ اس سے اپنے کاروباری تعلقات کا تحفظ چاہتے ہیں ۔