.

ترکی کے ساتھ تعاون کا مکمل ارادہ رکھتے ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا نیٹو اتحاد میں اپنے حلیف ترکی کے ساتھ تعاون کی صورت میں کام کرنے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے۔ پومپیو کے مطابق وہ امید رکھتے ہیں کہ ترکی میں گرفتار امریکیوں کا معاملہ "آئندہ دنوں کے دوران" کسی صورت حل ہو جائے گا۔

واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے ترکی کے دو وزیروں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یہ اقدام امریکی پادری اینڈریو برینسن کے معاملے کے سبب سامنے آیا۔ اینڈریو کو دہشت گردی کی سپورٹ کے الزام میں ترکی میں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ امریکا اس بات کی بھی کوشش کر رہا ہے کہ ترکی میں اُس کے سفارت خانے کے تین مقامی ملازمین کو رہا کر دیا جائے۔

مائیک پومپیو نے ہفتے کے روز سنگاپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میری گزشتہ روز اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ میں نے برینسن کی رہائی اور ان کی امریکا واپسی کی ضرورت واضح کر دی ہے اور دیگر اہل کاروں کی رہائی پر بھی زور دیا ہے جن کو ترکی نے حراست میں لے رکھا ہے"۔

دوسری جانب ترکی وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے جمعے کے روز ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ "یقینا ایک ملاقات کے دوران تمام معاملات کے حل کی توقع نہیں کی جا سکتی تاہم ہم ساتھ کام کرنے اور تعاون پر متفق ہو گئے ہیں اور آئندہ عرصے میں بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا"۔

مائیک پومپیو سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا یہ معاملہ نیٹو اتحاد میں ترکی کی رکنیت کے لیے خطرہ ہو گی تو اُن کا جواب تھا کہ "ترکی نیٹو اتحاد میں ایک شراکت دار ہے اور امریکا اس بات کی پوری نیت رکھتا کہ انقرہ کے ساتھ تعاون کی صورت میں مل کر کام کرے"۔

واضح رہے کہ امریکا اور ترکی کے درمیان شام میں جنگ، ترکی کا روس سے دفاعی میزائل نظام خریدنے اور ترکی کے ایک سرکاری بینک کے ایگزیکٹو آفیشل کو امریکا میں قصور وار ٹھہرائے جانے کے حوالے سے بھی شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکی پادری اینڈرو برینسن کو ایک ایسی جماعت کی سپورٹ کے الزامات کا سامنا ہے جس کو انقرہ حکومت 2016ء میں ہونے والی فوجی انقلاب کی کوشش میں رابطہ کاری کے حوالے سے ملامت کا نشانہ بناتی ہے۔ برینسن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے تاہم انہیں 35 برس تک کی قید کی سزا کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں برینسن پر امریکا میں مقیم ترک مذہبی اسکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کی مدد کا بھی الزام ہے۔ انقرہ گولن کو فوجی انقلاب کی منصوبہ بندی کرنے کا ملزم ٹھہراتا ہے جب کہ گولن اس کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکی پادری پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کو سپورٹ کر رہا ہے۔