.

موصل میں جلد اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولیں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کا ملک شمالی عراق کے شہر موصل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا۔

عراق اور شام میں داعش تنظیم کی چڑھائی سے قبل ترکی کے لیے اس علاقے کی اہمیت کے پیش نظر انقرہ نے موصل میں ایک بڑے قونصل خانے کا افتتاح کیا تھا۔

جون 2014ء میں داعش تنظیم نے شمالی عراق میں ترکی کے 46 شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں موصل میں تُرک قونصل خانے میں کام کرنے والے سفارت کار، ان کے بچے اور اسپیشل فورسز کے اہل کار شامل تھے۔ تین ماہ جاری رہنے والے بحران کے بعد ان افراد کو ستمبر 2014ء میں آزاد کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2016ء میں امریکی وزارت دفاع نے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ داعش کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے موصل میں ترکی کے سابق قونصل خانے کو بم باری کر کے تباہ کر دیا۔ عراقی فورسز نے جون 2017ء میں موصل شہر واپس لے لیا تھا۔

ایردوآن نے 24 جون کو ہونے والے انتخابات میں اپنی جیت کے بعد حکومتی منصوبوں کو زیر بحث لانے کے لیے منعقد اجلاس کے دوران کہا کہ "موصل اور بصرہ میں ترکی کے قونصل خانے 100 روز کے اندر دوبارہ کام شروع کر دیں گے"۔

ترکی نے 2014ء مین موصل میں اپنا قونصل خانہ داعش کے قبضے میں جانے کے ایک ہفتے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں بھی اپنے سفارت خانے کو خالی کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی موصل میں اپنے وجود کو مضبوط بنانے کا خواہش مند ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق 2014ء میں قونصل خانے کے عملے کے افراد کو ایک ڈیل کے تحت رہا کیا گیا تھا۔ ڈیل کے مطابق ترکی نے اپنی تحویل میں موجود داعش تنظیم کے عناصر کو آزاد کیا تھا۔

ایردوآن نے جو اُس وقت حکومت کے سربراہ تھے باور کرایا کہ اس سلسلے میں کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ "سیاسی اور سفارتی مذاکرات" کے ذریعے تمام تُرکوں کی رہائی عمل میں آئی اور یہ ایک "سفارتی فتح" ہے۔