.

یمن : حوثی باغیوں نے تین سال میں 10 لاکھ بارودی سرنگیں بچھا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قانونی حکومت کے خلاف مسلح باغیانہ جنگ برپا کرنے والے حوثی شیعہ باغیوں نے گذشتہ تین سال کے دوران میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں دس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھائی ہیں ۔ان کے دھماکوں کے نتیجے میں 216 بچوں سمیت 1194 شہری مارے گئے ہیں ۔

یہ بات سعودی عرب کے یمن میں بارودی سرنگیں تلف کرنے کے منصوبے (ماسام) کے اعلیٰ عہدے دار نے بتائی ہے۔ماسام جنگ زدہ یمن کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ یمنی شہریوں کی جانوں کا تحفظ کیا جاسکے اور ہنگامی انسانی امداد کی متاثرین تک بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

ماسام کے ڈائریکٹر جنرل اسامہ القصیبی نے امارات کی خبررساں ایجنسی وام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ’’ دو ہفتے قبل اس منصوبے کے آغاز کے بعد سے تعز ، بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ، بیہان ، عصیلان ، صعدہ ،شبوہ اور مآرب میں 919 بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنایا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان میں بعض بارودی سرنگوں پر بین الا قوامی سطح پر پابندی عاید ہے۔ان سے بکتر بند گاڑیوں کو دھماکوں سے اڑایا جا سکتا ہے۔حوثیوں نے یہ بارودی سرنگیں مختلف ذرائع سے حاصل کی تھیں اور ان میں سے 288 مقامی ساختہ یا ایران ساختہ تھیں‘‘۔

حوثی باغیوں نے گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے بارودی سرنگیں تیار کی ہیں اور انھیں بکتر بند گاڑیاں اڑانے کے لیے بھی سڑکوں کے کناروں پر نصب کررہے ہیں تاکہ وہ شہریوں کو خوف وہراس میں مبتلا اور دہشت زدہ کرسکیں ۔

یمن میں ماسام کا منصوبہ سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز ( کے ایس ریلیف ) نے 25 جولائی کو شروع کیا تھا ۔اس کا مقصد حوثی ملیشیا سے یمن کے بازیاب کرائے گئے علاقوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا ہے ۔

ماسام کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں جنگ زدہ یمن میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے کوششوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مہلک ثابت ہوسکتی ہیں۔اس پروگرام کا مقصد ماضی میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں اپنے پیاروں سے محروم یا معذو ر ہونے والے یمنیوں کو امداد مہیا کرنا بھی ہے۔اس پروگرام کے تحت یمنی ماہرین کو بارودی سرنگیں تلف کرنے کی بھی تربیت دی جائے گی ۔