افغانستان: ہتھیار ڈالنے والے داعشی جنگجوؤں کے لیے عام معافی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے جوزجان میں رواں ہفتے ہتھیار ڈالے والے داعش کے جنگجوؤں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’داعش‘ کے جنگجوؤں کو یہ پیش کش ان پر دہشت گردی، وحشیانہ کرروائیوں ، ریپ اور قتل جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے باوجود کی گئی ہے۔ جنگجو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ جوزجان صوبے میں کئی ہفتوں سےجاری لڑائی کے بعد ’داعش‘ کے 150 جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں دو اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل اس صوبے میں طالبان عسکریت پسندوں کا قبضہ تھا مگر افغان فوج نے طالبان کو وہاں سے بے دخل کردیا۔

لڑائی کی وجہ سے درزاب اور قوش ٹبہ کے علاقون سے ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں داعش کے جنگجوں نے شہری آبادی کے خلاف وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ وہ خواتین اور بچیوں کو یرغمال بناتے۔ ان کی اجتماعی عصمت دری کرتے اور کئی خواتین کو مزاحمت پرقتل کردیا گیا۔

جازجان کی صوبائی حکومت کے ترجمان محمد رضا غفوری نے بتایا کہ سیکیورٹی ادارے جنگجوؤں کو ہتھیار پھینکنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اگر وہ لڑنے کے بجائے ہتھیار پھینک دیتے ہیں تو انہیں عام معافی دی جاسکتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ الزامات کا سامنا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ درزاب کے علاقے میں داعش کے ایک گروپ نے ہتھیار ڈال دیے۔

درایں اثناء مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے کابل پر عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں