.

ایران : معاشی جرائم کے الزامات میں مرکزی بنک کے سابق نائب گورنر سمیت 12 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مرکزی بنک کے سابق نائب گورنر سمیت سات افراد اور غیرملکی کرنسی کے لین دین کا کاروبار کرنے والے پانچ افراد کو مبیّنہ معاشی جرائم کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ’’ مرکزی بنک کے حال ہی میں برطرف کیے گئے نائب گورنر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔وہ بنک میں غیرملکی کرنسی کے تبادلے کے ذمے دار تھے‘‘۔

انھوں نے اس عہدہ دار کا نام تو نہیں لیا لیکن وہ حوالہ احمد عراقچی ہی کا دے رہے تھے۔انھیں بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور ایرانی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے کمی کے بعد مرکزی بنک کے نائب گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری ادارے میں کام کرنے والے ایک شخص ، کرنسی کا کاروبار کرنے والے چار غیر مجاز ڈیلروں اور کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی ایک دکان کے ایک ملازم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی ریال اپریل کے بعد سے کمزور ملکی معیشت کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں اپنی نصف قدر کھو چکا ہے۔اس کے علاوہ ایرانی شہری امریکا کی نئی معاشی پابندیوں کے نفاذ اور ان کے منفی اثرات نمودار ہونے سے قبل اپنی جمع پونجی بیچ کر دھڑا دھڑ ڈالر خرید کررہے ہیں ۔اس وجہ سے بھی ایرانی ریال دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔

ایران کے مرکزی بنک نے گذشتہ ہفتے ’’ دشمنوں‘‘ کو ملکی کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قیمت کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ایرانی عدلیہ نے ریال کی قدر میں گراوٹ کے ذمے دار انتیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان پر عاید کردہ الزامات پر انھیں سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔