ایران میں احتجاج کا سلسلہ جاری ، قم شہر میں "حزب اللہ مردہ باد" کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں جاری عوامی احتجاج کی لہر نے پانچویں روز ملک کے وسط میں واقع "مذہبی" شہر قُم کو بھی لپیٹ میں لے لیا جہاں مظاہرین نے ہفتے کی شب "حزب اللہ مردہ باد" کا نیا نعرہ لگایا۔

سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے وڈیو کلپوں میں قُم شہر کے سراپا احتجاج بنے ایرانیوں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کے خلاف نعرے لگائے۔ بہت سے ایرانیوں کے نزدیک یہ تنظیم اُس مال پر پل رہی ہے جو غریب ایرانیوں کا حق ہے۔ ایران کی جانب سے حزب اللہ کے لیے سالانہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے اور یہ کسی بھی سرکاری نگرانی کے بغیر براہ راست رہبر اعلی کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔

احتجاج کرنے والے مظاہرین نے حکومت اور حکمراں نظام کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے رہبر اعلی علی خامنہ ای سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار سے سبکدوش ہو جائیں۔

کارکنان کے مطابق مظاہرین نے مختلف نعرے لگائے جن میں "انہوں نے دین کو سیڑھی بنایا اور عوام کو ذلیل کیا" اور "آمر مردہ باد" شامل ہے۔

کارکنان نے مزید بتایا کہ کرج اور شیراز شہر کے علاوہ دارالحکومت تہران کے بعض علاقوں میں عوام مظاہرے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ ملک میں معاشی حالات اور سیاسی و اقتصادی بدعنوانی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔

کرج شہر میں جہاں پہلے روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مظاہرین نے "تم لوگ ڈرو نہیں ، ہم سب ساتھ ہیں اور آمر مردہ باد" کے نعرے لگائے۔

عینی شاہدین کے مطابق جن علاقوں میں عوام کا احتجاج دیکھا جا رہا ہے وہاں ایرانی سکیورٹی حکام نے انٹرنیٹ منقطع کر دیا ہے تا کہ تصاویر اور وڈیو کلپ ذرائع ابلاغ تک نہ پہنچ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں