سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی خلیج میں بحری جنگی مشقیں

بحری مشقوں کا مقصد دشمن کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے حربی تیاریوں کا جائزہ لینا ہے : ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے اتوار کو گذشتہ چند روز کے دوران میں خلیج میں جنگی بحری مشقیں کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دشمن سے ممکنہ محاذ آرائی کی صورت میں حربی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا ۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد بین الاقوامی آبی گذرگاہ پر کنٹرول اور اس کا تحفظ ہے ۔ یہ پاسداران کی سالانہ فوجی مشقوں کے پروگرام کے تحت کی گئی ہیں۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان نے بدھ کو ایرانی بحریہ کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاع دی تھی اور آبنائے ہُرمز تک اس کی نقل وحرکت دیکھی گئی ہے۔پاسداران انقلاب نے اس اہم تجارتی آبی گذرگاہ کو ایران کے تیل کی برآمدات پر پابندیوں کی صورت میں بند کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

امریکی حکام نے جمعرات کو برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا تھا کہ ایران نے خلیج فارس ( عرب) میں قبل از وقت سالانہ بحری مشقیں شروع کردی ہیں ۔

سپاہِ پاسدارا ن انقلاب ایران کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے فوجی مشقوں کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے حربی تیاریوں کو بڑھانے ، خلیج اور آبنائے ہُرمز کی سکیورٹی اور دشمن کی کسی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایک امریکی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران کی سمندر میں ان جنگی مشقوں میں ایک سو سے زیادہ بحری جہازوں نے حصہ لیا ہے۔ان میں چھوٹی جنگی کشتیاں بھی شامل تھیں۔ان مشقوں کا مقصد امریکا کو ایک پیغام دینا تھا۔

امریکا ایران کے خلاف اقتصادی اور سفارتی دباؤ تو بڑھا رہا ہے لیکن ابھی تک اس نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ایران اور اس کی گماشتہ تنظیموں کی خطے میں سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوجی طاقت بھی استعمال کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں