عرب دنیا میں سیاست دانوں کا جمِ غفیر ہے لیکن منتظمین کا قحط الرجال ہے: حاکمِ دبئی

ہمارے خطے میں سیاست دان ہی معیشت ، تعلیم اور کھیلوں کے امور نمٹانے کے ذمے دار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’’ زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ عرب دنیا میں سیاست میں گہرائی تک اترنا وقت کا ضیاع ہے۔سیاست عام طور وطریقوں کو آلودہ کردیتی اور وسائل کو ضائع کرتی ہے‘‘۔

یہ بات حاکم دبئی اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھی ہے۔شیخ محمد کا کہنا ہے کہ عرب دنیا میں سیاست دانوں کا تو جمِ غفیر ہے لیکن یہاں منتظمین کا قحط الرجال اور انتظامیہ کا فقدان ہے۔

وہ لکھتے ہیں:’’ہمیں وسائل نہیں بلکہ بہتر انتظامیہ نہ ہونے کی وجہ سے بحران کا سامنا ہے۔ذرا چین اور جاپان کی طرف دیکھیے ۔ان کے پاس قدرتی وسائل نہیں ہیں۔ان ممالک کی طرف بھی دیکھیے جن کے پاس اپنا تیل ، گیس اور انسانی وسائل ہیں لیکن ان کا کوئی ترقیاتی مستقبل نہیں ۔وہ اپنے لوگوں کو سڑکوں اور بجلی ایسی بنیادی خدمات بھی مہیا نہیں کرسکتے‘‘۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ کسی ملک کی کامیابیوں اور تاریخ کو خود بولنا چاہیے نہ کہ خالی خولی تقریروں اور بے معنی الفاظ سے کام چلایا جانا چاہیے۔

شیخ محمد کہتے ہیں :’’ ہماری عرب دنیا میں سیاست دان معیشت چلاتے ہیں، تعلیم ، میڈیا اور حتیٰ کہ کھیلوں کا بندوبست کرتے ہیں حالانکہ سیاست دانوں کا حقیقی کام تو معیشت دانوں ، ماہرین ِتعلیم ، کاروباری افراد ، میڈیا کی شخصیات اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا اور انھیں سہولتیں بہم پہنچانا ہے۔سیاست دانوں کا کام عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانا اور بحران حل کرنا ہے ،چہ جائیکہ وہ ان بحرانوں کے آغاز کا سبب بنیں ۔انھیں کامیابیوں وکامرانیوں کو تباہ کرنے کے بجائے انھیں سمیٹنا چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں