ہٹلر نے اس خوف ناک ہتھیار کے ذریعے لندن کو تباہ کرنے کی کوشش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے فضائی بم (V-1) اور بیلسٹک میزائل (V-2) کا کامیاب استعمال کیا۔ عسکری تاریخ میں متعارف ہونے والا یہ پہلا بیلسٹک میزائل تھا۔ اس کے ذریعے برطانوی دارالحکومت لندن پر بم باری کی گئی جس کے نتیجے میں بھاری جانی اور مادی نقصان پہنچا۔ لندن کو نشانہ بنانے کے واسطے جرمنی نے ایک تیسرا ہتھیار (V-3) تیار کر ڈالا۔

نازیوں کی منصوبہ بندیوں کے نتیجے میں سامنے آنے والا جدید ہتھیار V-3 درحقیقت ایک عظیم توپ تھی جو مختصر مدت میں گولوں کی بڑی تعداد داغنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔


سال 1942ء میں جرمن انجینئر (August Coenders) کو اس توپ خانے کا خیال پسند آیا۔ اس نے سابقہ عظیم الجثہ توپوں میں پائی جانے والی خامیوں کی درستی کے لیے تجاویز پیش کیں۔


ایڈولف ہٹلر نے V-3 توپ تیار کرنے کی منظوری دے دی۔ اسے یقین تھا کہ یہ ہتھیار لندن کو تباہ کر دے گا جس کے بعد برطانیہ جنگ سے علاحدہ ہونے پر مجبور ہو جائے گا۔ البتہ بہت سے سینئر انجینئروں نے V-3 توپ خانے کی تیاری کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بقیہ وسائل کو جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی تیاری اور مشرقی محاذ پر سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے رقوم کی فراہمی کے واسطے استمعال کیا جائے۔

سال 1942ء میں ان عظیم الجثہ توپ خانوں کی تیاری کا آغاز ہوا۔ ابتدائی ڈیزائن کے مطابق ایک توپ کی لمبائی 135 میٹر تھے جب کہ اس کی نالی کا حجم 150 ملی میٹر کے قریب تھا۔اس دوران حربی آلات کی تیاری کے جرمن وزیر نے ایسی 50 توپوں کی تیاری کی کوشش کی۔ اس بات کو باور کرایا گیا کہ ان توپوں کے ذریعے ایک گھنٹے کے اندر برطانوی اراضی کی جانب 25 کلو گرام گولہ بارود سے بھرے 600 گولے داغے جا سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں لندن شہر مسلسل گولہ باری سے ایک دن میں ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔

جرمن حکام نے V-3 توپ خانوں کے لیے فرانس کے صوبے Pas-de-Calais کے علاقے Moyecques میں زیرِ زمین ٹھکانے بنائے۔ یہ علاقہ برطانوی اراضی سے قریب تھا۔ منصوبے کے لیے 500 انجینئروں اور ہزاروں جنگی قیدیوں کا سہارا لیا گیا۔ برطانوی فضائیہ نے اس مقام کا پتہ چلا کر نومبر 1943ء میں پہلی مرتبہ اسے نشانہ بنایا تاہم کوئی بڑا نقصان نہ ہوا۔


سال 1944ء کے آغاز پر جرمن انجینئروں نے V-3 توپ کا پہلا تجربہ کیا جو انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ توپ سے داغے جانے والے گولے کی رفتار 1000 میٹر فی سیکنڈ کے قریب رہی جو ابتدائی تحقیق کے دوران سامنے آنے والی متوقع رفتار سے بہت کم تھی۔ اگلے ایک ماہ تک جرمن اس توپ کو بہتر بنانے کے لیے تجربات کرتے رہے۔


چھ جولائی 1944ء کو برطانوی شاہی فضائیہ نے(Avro Lancaster) طیاروں اور(Tallboy) بموں کے ذریعے جرمنوں کے V-3 توپ خانے کے لیے مخصوص ٹھکانوں پر بھرپور حملہ کیا۔ اس دوران برطانوی طیاروں نے بموں کی صورت میں 5 ہزار کلو گرام سے زیادہ دھماکا خیز مواد جرمن ٹھکانوں پر برسایا۔ اس طرح برطانوی اراضی پر گولہ باری کے منصوبے کو حتمی طور پر ٹھکانے لگا دیا گیا۔


بعد ازاں 1944ء کے اواخر اور فروی 1945ء میں جرمنوں نے اتحادی افواج پر بالخصوص لیگزمبرگ کے نزدیک علاقوں میں V-3 گولے برسائے جس کے نتیجے میں بعض فوجی مارے گئے۔ اتحادی افواج کے نزدیک آنے پر جرمنوں نے V-3 توپوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ وہ دشمن کے قبضے میں نہ چلی جائیں۔ تاہم بعد ازاں امریکی فوج اس نوعیت کی بقیہ توپوں کو اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب ہو گئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد انہیں امریکی اراضی کی جانب منتقل کر دیا گیا۔


مقبول خبریں اہم خبریں