.

ایران : مرکزی بینک کے گورنر کا برطرف معاون گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجئی نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ مرکزی بینک کے گورنر کے معاون برائے نقد کرنسی اُمور 'احمد عراقجی' کو عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں نے ایجئی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں نقد کرنسی سے متعلق مرکزی بینک کے گورنر کا معاون ، 4 بروکرز اور ایک کیشیئر شامل ہے"۔

ایرانی ریال کی قدر میں 20% تک کی شدید مندی کے اثرات کے بعد ہفتے کی صبح احمد عراقجی کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق مرکزی بینک کے نئے سربراہ عبدالناصر ہمّتی جن کو چند روز قبل ولی اللہ سیف کی جگہ مقرر کیا گیا تھا ،،، وہ اپنے طور پر غیر ملکی کرنسی کے امور سے متعلق اپنے معاون احمد عراقجی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ولی اللہ سیف کو ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ کے بعد مرکزی بینک کے گورنر کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔

مذکورہ ایجنسی کے مطابق اس طرح کے منصب کے لیے مطلوب تجربے کی کمی کے باوجود احمد عراقجی کی اس حساس پوزیشن پر موجودگی کو ارکان پارلیمنٹ اور دیگر ذمّے داران کی جانب سے بارہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

حکومت کی جانب سے حالیہ انتظامی تبدیلیاں ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ کو روکنے کی کوشش ہے۔ گزشتہ ماہ ایرانی ریال کی قدر میں 20% تک کمی آنے کے نتیجے میں قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ اور خرید و فروخت کا سلسلہ موقوف دیکھا گیا۔

ایسے وقت میں جب ایران کے مختلف حصوں میں 6 روز سے عوام کا سمندر سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ،،، اقتصادی رابطے کی سپریم کونسل نے ہفتے کے روز صدر حسن روحانی کے زیر صدارت اجلاس میں نقد کرنسی سے متعلق مرکزی بینک کی نئی پالیسیوں کے خدوخال پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔