.

سعودی عرب نے کینیڈا کے لیے وظائف معطل کردیے،طلبہ دوسرے ممالک منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے کینیڈا کے لیے تمام تعلیمی وظائف ، تربیتی اور فیلوشپ پروگراموں کو معطل اور اس ملک میں زیر تعلیم طلبہ کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب نے یہ فیصلہ الریاض میں متعیّن کینیڈین سفیر کو بے دخل کرنے اور کینیڈا کے ساتھ تمام کاروبار منجمد کرنے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کار ی کے شعبوں میں طے شدہ تما م نئے سمجھوتوں اور معاہدوں کو منجمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کینیڈا کے خلاف مزید اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا اپنے درآمدہ کل خام تیل کا 10 فی صد سعودی عرب سے حاصل کر تا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تین ارب ڈالرز ہے۔

کینیڈا نے حال ہی میں سعودی عرب کو ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں فروخت کی تھیں۔لندن ،انٹاریو میں قائم فرم جنرل ڈائنامکس لینڈ سسٹمز نے سعودی عرب کے ساتھ 2014ء میں 15 ارب ڈالرز مالیت کا ایک سودا طے کیا تھا۔اس کے تحت اس فرم نے سعودی عرب کو اپنی ہلکی بکتر بند گاڑیاں فروخت کرنا تھیں ۔یہ بڑے دفاعی سودوں میں سے ایک تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے قبل ازیں سوموار کو الریاض میں متعیّن کینیڈین سفیر ڈینس حوراک کو 24 گھنٹے میں ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا اور کینیڈا سے سعودی سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔

اس نے واضح کیا تھا کہ ’’کینیڈا یا دوسرے ممالک کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انھیں سعودی مملکت سے زیادہ اس کے شہریوں کے بارے میں تشویش لاحق نہیں ہوسکتی‘‘۔