آبنائے ہرمز میں ایران کی بحری مشقیں امریکا کے لیے ’پیغام‘ تھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بڑی بحری مشقیں دراصل امریکا کے لیے ایک ’پیغام‘ تھیں۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل فوٹیل نے واضح کیا کہ ’’یہ مشقیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کا ردعمل تھیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی صلاحیت کا اظہار تھا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ وہ (ایرانی) ان مشقوں کے ذریعے ہمیں(امریکاکو) پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگر واشنگٹن نے تہران پر پابندیاں عاید کیں تو اس کے جواب میں ایران اپنی کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔‘‘

جنرل فوٹیل نے ، جو مشرق اوسط اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکی فوجی کارروائیوں نے نگران ہیں،مزید کہا کہ ان مشقوں میں سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک سو ایرانی بحری جہازوں نے شرکت کی۔ فوٹیل کے بقول یہ مشقیں ’غیر معمولی‘ نہیں تھیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ’’ایران انتہائی مصروف سمندری گذرگاہ [آبنائے ہرمز] میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کر سکتا ہے۔ نیز یہاں دھماکا خیز مواد سے لدی چھوٹی کشتیاں چھوڑ سکتا ہے۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ان امکانات کے حوالے سے پہلے ہی پیش بندی کر رکھی ہے۔ ہمارے پاس اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔‘‘

امریکی جنرل نے بتایا کہ ’’مشقوں کے درمیان ایرانی اور امریکی لڑاکا بحری بیڑوں کے درمیان کسی قسم کی غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دونوں فریق پیشہ وارانہ انداز میں ایک دوسرے کے قریب ہی اپنی اپنی مشقوں میں مصروف رہے۔‘‘

اتوار کے روز ایران نے خلیج کے پانیوں میں بحری مشقیں کیں جس میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی مشق بھی شامل تھی۔ یہ مشق دراصل اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تھی کہ اگر ایران کو تیل برآمد کرنے سے روکا جاتا ہے، تو وہ کیسے اس جکڑ بندی کو توڑنے کا سامان کرے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے گذشتہ ہفتے تہران کے لیے نئے برطانوی سفیر رابرٹ ماکیر سے ملاقات میں کہا تھا کہ ’’ ان کا ملک تیل برآمدات روکنے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد نہیں چاہتا۔ ہم خطے میں تناؤ اور کشیدگی پیدا کر کے تیل کی ترسیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے۔‘‘

یاد رہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ’’بحیرہ احمر اب محفوظ نہیں رہا۔‘‘ ان کا اشارہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے بحیرہ احمر میں تیل بردار دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کی جانب تھا۔ یہ پیش رفت اس امر کی واضح دلیل تھی ایران بحیرہ احمر میں اپنے آلہ کار حوثیوں کے ذریعے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایرانی اخبارات میں سپاہ پاسداران انقلاب کا بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا تھا کہ آبنائے باب المندب سے گذرنے والے دو سعودی آئل ٹینکروں کو پاسداران انقلاب کے حکم پر حوثی باغیوں نے نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ نے سپاہ پاسداران انقلاب کے ذیلی ادارے ’ثار اللہ‘ کے آپریشن انچارج ناصر شعبانی کا ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’ہم نے یمنیوں سے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا کہا تھا اور انھوں نے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘

فارس نے بعد ازاں اپنی خبر میں ترمیم کرتے ہوئے متذکرہ جملہ حذف کر دیا تھا اور ساتھ ہی سپاہ پاسداران انقلاب نے وضاحت جاری کی کہ شعبانی کا بیان جاری کرتے وقت غلطی سرزد ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں