.

ایرانی اسٹیڈیم ’آمریت مُردہ باد‘ اور ’خلیج عرب‘ کے نعروں سے گونج اٹھے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی قوم پر مسلط آمرانہ ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف عوامی احتجاج سڑکوں سے نکل کر کھیل کے میدانوں تک جا پہنچا ہے۔ ایران کے دو بڑے کھیل کے میدانوں میں فٹ بال میچوں کے دوران ہزاروں شائقین اور تماشائیوں نے ’آمریت مردہ باد‘ اور ’خلیج عرب زندہ باد‘ کےنعرے لگائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ سے پیوستہ جمعہ کو ’غدیر الاھواز‘ اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ کے دوران فارسی نسل کے تماشائیوں نے نسل پرستانہ نعرے لگائے۔ یہ نعرے اس وقت لگائے گئے جب برسبولیس کلب اور اھوازی فٹ بال ٹیم ’فولاد‘ کے درمیان ایک فٹ بال میچ جاری تھا۔

اس موقع پر فارسی بولنے والے تماشائیوں نے عربوں اور غیر فارسی اقوام کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے۔ اس موقع پر اھوازی عرب باشندون کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی مگر جیسے ہی ان کے خلاف نعرے لگائے گئے تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد پرسوں جمعرات اور کل جمعہ کے روز ایران کے ’تہران آزادی‘ اسٹیڈیم میں ہونے والے فٹ بال میچوں کے دوران اھوازی باشندوں نے اپنا بدلہ لے لیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک فوٹیج میں بھی ایرانی عربوں کو حکومت اور اس کی امرانہ سیاست کے خلاف پرجوش نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بار برسبولیس کلب کا مقابلہ ایک دوسری عرب اھوازی ٹیم ’استقلال خوزستان‘ کے ساتھ تھا۔

تماشائیوں نے خلیج عرب زندہ باد اور آمریت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ انہوں نے عرب زندہ باد، ترک زندہ باد اور آذر بائیجان زندہ باد کے نعروں کےساتھ کتبوں پر بھی نعرے تحریر کر رکھے تھے جن پر’ہمیں اپنے عربی تشخص پر فخر ہے‘ کے نعرے درج تھے۔ مشتعل ھجوم کی جانب سے شدید نعرے بازی کے باعث چند منٹ کے لیے میچ بھی روکنا پڑا۔ تہران آزادی اور غدیر الاھواز اسٹیڈیم میں’آمریت مردہ باد‘ اور ‘خلیج عرب زندہ باد‘ کے نعرے مشترک تھے۔مظاہرین کے نعروں کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔