.

سویڈش کارکن کی مداخلت سے بے دخلی سے بچ جانے والا افغان سزا یافتہ نکلا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں گذشتہ ماہ ایک مقامی طالبہ نے احتجاج کرکے طیارے میں سوار ایک افغان پناہ گزین کو بے دخل ہونے سے بچا لیا تھا۔ سویڈش میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی واقعے کی تفصیلات نے عوام کو حیران کر دیا ہے۔

سویڈن کے ایک مقامی آن لائن اخبار Nyheter Idag نے اپنی جمعے کے روز جاری رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ افغان شخص کو عائلی تشدد کے الزام میں 9 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس نے اپنی بیوی اور دو چھوٹی بچیوں کو بجلی کے تار سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا تھا۔

23 جولائی کو افغان پناہ گزین کی ملک بدری کو اُس وقت روک دیا گیا جب ایک سویڈش خاتون سماجی کارکن الین ارسون نے طیارے میں اپنی نشست پر بیٹھنے سے انکار کر دیا جس کے سبب عملہ کو پرواز منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

لاکھوں افراد نے فیس بک پر الین ارسون کے اکاؤنٹ کے ذریعے اُس کے احتجاج کو براہ راست دیکھا اور ارسون کے موقف کو یورپ میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نمایاں کامیابی قرار دیا۔

ارسون اس سے قبل بھی کارکنان کے ایک گروپ کے ذریعے مختلف طریقوں سے بے دخلی کی کارروائیاں رکوا چکی ہے تاہم اس مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ اُسے پچاس پچپن سالہ اس افغان مرد کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔

افغان شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ 2015ء میں سویڈن آیا تھا۔ پناہ کی درخواست دینے کے بعد وہ سرکاری طور پر اس کے جواب کا منتظر تھا۔ مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ شخص اپنے پرتشدد برتاؤ کے سبب جانا جاتا تھا اور اس نے گذشتہ برس 14 جون کو اپنے بچوں کو کئی مرتبہ بجلی کے تار سے مارا کیوں کہ وہ ٹی وی دیکھنے کے دوران شور کر رہے تھے۔ بچوں کو بچانے کے لیے ماں نے مداخلت کی تو اس شخص نے اپنی بیوی کو بھی زدوکوب کیا۔

تاہم افغان شخص نے خود پر عاید الزام کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر واقعے کے پیچھے اس کی بیوی کا ہاتھ ہے کیوں کہ وہ شوہر کے بغیر سویڈن میں رہنے کا بہترین موقع پانا چاہتی ہے۔ البتہ عدالت نے رواں برس مارچ میں افغان شخص کو نو ماہ قید کی سزا سنا دی۔

واضح رہے کہ ہوابازی کا قانون مسافر کو پابند بناتا ہے کہ وہ ہر صورت میں کپتان کی تعمیل کرے۔ بصورت دیگر مسافر کو جرمانے کا یا پھر چھے ماہ تک کی قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سویڈن میں دائیں بازو کے میڈیا نے بائیں بازو کے اُن کارکنان کے خلاف مہم چلائی جو بے دخلی کی کارروائیاں روکنے اور ہجرت اور پناہ کی پالیسیوں میں ترامیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بائیں بازو کے مذکورہ کارکنان نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اس افغان شہری کا معاملہ بہت پُراسرار ہے اور اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان بھی جاری نہیں ہوا۔