.

وزیر اعظم ٹروڈو کشیدگی کے خاتمے کے لیے خود الریاض جائیں : سابق وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے سابق وزیر خارجہ جان بائرڈ نے اپنے ملک کے سعودی عرب کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کینیڈا ہمیشہ سے سعودی مملکت کا اتحادی اور دوست رہا ہے۔

جان بائرڈ نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کینیڈا کی موجودہ حکومت کی اختیار کردہ پالیسی کے نتیجے میں کشیدگی اس سطح تک پہنچ گئی ہے اور یہ سب ٹویٹس کا کیا دھرا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات ایک جیسے ہیں ۔ان میں خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک لگانےکی پالیسی ، اخوان المسلمون اور داعش کے بارے میں یکساں موقف نمایاں ہیں۔ دونوں ملک داعش کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کینیڈا کو اپنے ایک اتحادی اور دوست ملک کے خلاف موقف اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ نقطہ نظر میں اختلاف پر قیادت یا وزرائے خارجہ کی سطح پر بالمشافہ بات چیت ہونی چاہیے اور ان پر ٹویٹس کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ سفارتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بہ ذات خود الریاض جانا چاہیے ا ور سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے براہ راست بات چیت کرنی چاہیے۔

انھوں نے سعودی عرب میں ویژن 2030ء کے تحت کی جانے والی اصلاحات کو سراہا ہے۔ جان بائرڈ نے اس انٹرویو سے قبل بھی وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے خود الریاض جائیں۔ انھوں نے بگڑتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے مضمرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

برطانوی اخبار گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا کو سعودی عرب کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد سے مزید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔رپورٹ میں واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان سفارتی بحران میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کینیڈا کی جانب سے سعودی عرب کے داخلی امور میں مداخلت اور اس بنا پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں تعطل پر سابق وزیراعظم کی پالیسی ڈائریکٹر راشیل کوران نے بھی سخت تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کینیڈا کا اس وقت دنیا میں کوئی بھی دوست نہیں رہا ہے ۔انھوں نے کینیڈا کی موجودہ حکومت کی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔