.

یمن میں حوثیوں کے جبری بھرتی شدہ 86 بچّہ فوجیوں کی خاندانوں میں واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قانونی حکومت کے حق میں برسر پیکار عرب اتحاد نے چھیاسی کم سن بچّہ فوجیوں کو بازیاب کرکے ان کے خاندانوں کے حوالے کردیا ہے۔انھیں حوثی شیعہ ملیشیا نے سرکاری فوج کے خلاف لڑائی کے لیے جبری طور پر بھرتی کیا تھا۔

عرب اتحاد نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے اور حوثی ملیشیا کے ہاتھوں ان سے ناروا سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حوثیوں نے یمن میں جنگ میں جھونکنے کے لیے بچوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اتحاد نے کہا ہے کہ یمنی بچوں کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ جنگ سے متاثر نہ ہوں ۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان مرکز برائے ریلیف اور انسانی امداد نے حوثی ملیشیا کے ہتھے چڑھنے والے بچوں کو بازیابی کرانے کے بعد ان کی نفسیاتی بحالی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے تاکہ انھیں ان کے خاندانوں کے پاس صحت مند حالت میں واپس بھیجا جاسکے۔

یمن کی گورنری مآرب میں اس وقت ستائیس بچوں کی بحالی کا کورس چل رہا ہے اور اب تک شاہ سلمان مرکز نے 161 بچوں کو نفسیاتی ، سماجی اور تعلیمی بحالی کے عمل سے گزارا ہے۔اس پروگرام کے تحت حوثی ملیشیا کے بھرتی شدہ قریباً دو ہزار بچوں کو بحال کیا جائے گا۔حوثی ملیشیا نے ان بچوں کا بچپن ہی نہیں چھینا بلکہ انھیں تعلیم کے حصول اور تفریحی مواقع سے بھی محروم کردیا ہے۔

حوثی ملیشیا کے جبری بھرتی شدہ بچوں کی بحالی کے لیے ڈاکٹروں ، ماہرین نفسیات ، سماجی ورکر وں اور ماہرین ِتعلیم پر مشتمل ٹیم کام کررہی ہے۔یہ بچے ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں ۔انھیں بحالی پروگرام کے تحت تفریحی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی مہیا کی جارہی ہیں اور ان کے درمیان بامقصد مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔