.

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے کا ایران کے دورے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے جاوید رحمن نے تہران میں حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اُنہیں ایران کے سرکاری دورے کی اجازت دیں تا کہ ملک میں انسانی حقوق کی حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران سے ملنے والی رپورٹوں میں کارکنان، صحافیوں، اقلیتوں، خواتین ، پُر امن احتجاج کو کچلنے اور مظاہرین کی ہلاکتوں کے حوالے سے مسلسل وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے ارتکاب کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے 51 سالہ پاکستانی وکیل جاوید رحمن کو ایران میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔ اُن کا تقرر پاکستانی ماہر قانون عاصمہ جہانگیر کی جگہ عمل میں آیا جو نومبر 2016ء سے 11 فروری 2018ء (اپنی وفات) تک اس مشن کو پورا کرتی رہیں۔

جاوید رحمن نے کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی نظام کے ذمّے داران کو ایک تحریری درخواست پیش کر دی تھی تا کہ انہیں ملک کے دورے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح وہ ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

یاد رہے کہ ایران نے 2005ء سے اقوام تمحدہ کے کسی بھی نمائندے کو ملک کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے رابطہ کرنے والے انسانی حقوق کے مدافعین کو ایرانی حکام کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے دور میں ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال ابتر ہو گئی۔ اس دوران اندھادھند پھانسیوں اور کارکنان، مخالفین، صحافیوں، مذہبی قومی اقلیتوں اور خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ نے لندن کی برونل یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کرنے والے برطانوی شہریت کے حامل پاکستانی جاوید رحمن کو 6 جولائی کو انسانی حقوق کی کونسل میں رائے شماری کے ذریعے منتخب کیا تھا۔

وہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں اقلیتوں کے امور کے فورم کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایمنسٹی سمیت انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی کئی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون بھی کیا۔

جاوید رحمن انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم پاکستانی رکن ہیں۔ وہ اسلامی قوانین کے ماہر اور مذہبی آزادی کے امور کے محقّق بھی ہیں۔ جاوید نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں بھی کام کیا ہے۔