.

حوثیوں کو ایرانی ہتھیاروں کی فراہمی سے جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہے: المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے سلامتی کونسل میں ایک ہنگامی پیغام پہنچایا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عرب اتحاد جمعرات کے روز یمن کے صوبے صعدہ میں ہونے والی کارروائی کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک جائز عسکری کارروائی شمار کرتا ہے۔ کارروائی میں اُن حوثی رہ نماؤں کو نشانہ بنایا گیا جو بچوں کی بھرتی، تربیت اور انہیں لڑائی کے محاذوں پر بھیجنے کے ذمّے دار تھے۔

المعلمی نے تصدیق کی کہ عرب اتحاد نے واقعے کو ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کیا ہے۔

اسی طرح سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے سلامتی کونسل کے فیصلوں بالخصوص قرارداد 2216 اور2231 کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے میں ناکامی پر کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس امر کے نتیجے میں ایران کو موقع مل گیا کہ وہ حوثی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کرے۔ حوثیوں نے بیلسٹک میزائل ، ڈرون طیاروں اور سمندری بارودی سرنگوں کے ذخیروں سے بھرپور فائدہ اٹھایا تا کہ علاقائی استحکام کے علاوہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کو خطرے سے دوچار کیا جا سکے۔

اس سے قبل امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے میجر جنرل ناصر شعبانی نے ڈھٹائی کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پرحملوں کے لیے حوثیوں کو احکامات دیے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ حوثی اور لبنانی حزب اللہ ایران کی تزویراتی گہرائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی نظام نے اپنی خبر رساں ایجنسیوں کی طرف سے سعودی تیل بردار جہازوں پرحملوں کی خبر غائب کردی تھی۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ پر جنرل شعبانی کے اس دعوے کی خبر کا ایک لنک بھی پوسٹ کیا اور کہا کہ یہ درست ہے کہ سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حملوں کا حکم ایران کی طرف سے دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے ناصر شعبانی کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں شعبانی نے کہا تھا کہ "ہم نے یمنیوں سے کہا کہ وہ سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائیں اور انھوں نے ہماری ہدایت پرعمل درآمد کیا"۔

تاہم چند منٹ کے بعد یہ خبر ’فارس‘ نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی تھی۔