.

خاتون فضائی میزبان کی قابل اعتراض تصاویر ، یونائیٹڈ ایئرلائنز کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر سان اینٹونیو میں وفاقی حکام نے فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز کے خلاف دعوی دائر کر دیا ہے۔ کمپنی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ایک خاتون فضائی میزبان کو اُس کے ساتھی کپتان کی جانب سے کئی برس تک جاری رہنے والی ہراسیت سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اس کپتان نے انٹرنیٹ پر مذکورہ خاتون فضائی میزبان کی "ہیجان انگیز اور جذبات کو برانگیختہ" کرنے والی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔

جمعرات کے روز Equal Employment Opportunity Commission کی جانب سے دائر کی جانے والی مقدمے کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ فضائی میزبان کی جانب سے کئی بار شکایات پیش کیے جانے کے بعد بھی یونائیٹڈ ایئرلائنز اس مرد کپتان کے برتاؤ کا جواب دینے میں ناکام رہی۔ درخواست کے مطابق یہ کپتان 2016ء میں ریٹائر ہو گیا تھا۔

ادھر یونائیٹڈ ایئرلائنز کمپنی کی ترجمان ایرن بینسن نے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ "ان کی کمپنی کام کی جگہاؤں پر جنسی ہراسیت کو نظر انداز نہیں کرتی اور وہ اس مقدمے میں بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کرے گی"۔

مقدمے کی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون میزبان اور مذکورہ مرد کپتان ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے تعلق میں مربوط تھے۔ تاہم جب اس کپتان نے خاتون فضائی میزبان کے حوالے سے نامناسب پوسٹوں کا سلسلہ (جس میں خاتون کا نام، ملازمت اور تعیناتی کے مرکزی ہوائی اڈے کا نام شامل ہوتا تھا) روک دینے سے انکار کر دیا تو فضائی میزبان نے یہ تعلق ختم کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق مرد کپتان کی جانب سے کئی ویب سائٹوں پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر کو خاتون میزبان کے بعض ساتھی مردوں نے دیکھ لیا جس کے نتیجے میں خاتون میزبان کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران تنگی کے ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔

ایمپلائمنٹ کمیشن اب خاتون میزبان کے واسطے ہرجانے کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔