.

عرب اتحاد نے یمن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد کی واقعات کا جائزہ لینے والی مشترکہ ٹیم ( جیاٹ) نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں اقامتی عمارتوں پر بمباری سے متعلق الزامات کو تحقیقات کے بعد مسترد کردیا ہے ۔عرب اتحاد کی فورسز پر یمن میں جاری تنازع کے دوران میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

جیاٹ کے ترجمان قانونی مشیر منصور المنصور نے اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عرب اتحاد کو صعدہ کے ایک دور دراز علاقے میں واقع ایک مکان میں حوثی ملیشیا کے کمانڈروں کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھیں اور اس کے بعد اس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ترجمان نے حملے کا نشانہ بننے والے مکان کی تصاویر بھی صحافیوں کو دکھائی ہیں۔اس کے بارے میں بعض بین الاقوامی تنظیموں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ شہریوں کے مکانوں سے متصل واقع تھا لیکن تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ مکان آبادی سے الگ تھلگ ایک دور دراز علاقے میں واقع ہے اور اس سے متصل کوئی مکان نہیں ہے۔

جیاٹ نے اپنی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس مکان کو عالمی انسانی قانون کے قواعد وضوابط کے مطابق حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

المنصور نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے یمن کی گورنری لحج میں واقع ایک مکان پر حملے کی بھی تحقیقات کی ہے۔ اس عمارت کو حوثی ملیشیا کے مسلح ارکان کی موجودگی کی بنا پر ہدف بنایا گیا تھا۔اس لیے یہ بالکل ٹھیک فوجی ہدف تھا۔