امریکا کے ساتھ نہ جنگ ہو گی اور نہ مذاکرات : خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے اُن مذاکرات پر ندامت کا اظہار کیا ہے جن کا نتیجہ جوہری معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ مقابلے کے وقوع کو خارج از امکان قرار دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق پیر کے روز تہران میں لوگوں کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات ایک غلطی تھی، میں نے غلطی کی اور حکومت کو اس تجربے کی اجازت دی جس کے دوران بہر حال وہ سرخ لکیر تجاوز کر گئے"۔

ایرانی رہبر اعلی نے زور دے کر کہا کہ "نہ تو جنگ ہو گی اور نہ ہم مذاکرات کریں گے۔ یہ حاصل کلام ہے جو تمام ایرانی عوام کو جان لینا چاہیے"۔

خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق رہبر اعلی نے اپنے خطاب میں باور کرایا کہ اُن کے ملک کی اقتصادی مشکلات صرف امریکی دباؤ کا نہیں بلکہ اندرونی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔ خامنہ ای کے مطابق اگر ایرانی ذمّے داران کی کارکردگی بہتر اور زیادہ کارگر ہوئی تو امریکی پابندیاں زیادہ اثر انداز نہیں ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی کرنسی کے ڈھیر ہو جانے کا تعلق بدانتظامی سے ہے نہ کہ پابندیوں سے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق رہبر اعلی نے پارلیمنٹ اور عدلیہ پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی کے انسداد کے لیے اپنی ذمّے داری پوری کریں۔

خامنہ ای نے اقرار کیا کہ آج عوام میں ایسے طبقات ہیں جو واقعتا غذائی اشیاء اور رہائش کی بلند قیمتوں کے دباؤ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

خطاب کے دوران ایک موقع پر جب خامنہ ای نے یہ کہا کہ "ملک میں بدعنوانی کا سانپ 7 سروں والا ہے جس کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے" ،،، تو سامعین نے نعرہ لگایا کہ "بدعنوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جانا چاہیے"۔

اس پر خامنہ ای نے جواب میں مجمع سے کہا کہ "کیا آپ لوگ عدالت ہیں ؟ ہنگامہ نہ کیجیے..، بعض لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی تاہم دیگر بعض کو جیل بھیجا جائے گا۔ میں اپنے خط میں عدلیہ کو یہ لکھ چکا ہوں کہ عدالتی کارروائیاں منصفانہ ہوں"۔

ایرانی معیشت کو کئی ماہ سے بگاڑ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی اور تہران پر پھر سے پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد اس بگاڑ کی شدّت دو گُنا ہو گئی ہے۔

ایرانی کرنسی (ریال) امریکی ڈالر کے مقابل 70٪ قدر کھو چکی ہے۔ بنیادی ضروریات اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں 50٪ سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران کے کئی شہروں میں احتجاج کی لہر اُٹھ چکی ہے۔

ایسے میں جب کہ ایرانی عوام مہنگائی، بدعنوانی، ملکی دولت پر حکمراں ٹولے کی اجارہ داری، ریاست کا مال بیرونی عسکری مداخلتوں پر خرچ کرنے کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ،،، ایرانی رہبرِ اعلی اور ان کی مقرّب شخصیات ملک کے اقتصادی مسائل کو بدعنوانی اور پابندیوں کے بجائے حکومت کی کمزور کارکردگی اور منڈی میں تاجروں اور بروکروں کی سازباز کے ساتھ مربوط کرنے میں مصروف ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس کا مقصد عوام کے جائز استحقاق سے فرار اختیار کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں