"لیرہ کا بحران" ہمارے خلاف ایک سیاسی سازش ہے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز کہا ہے کہ ترکی کی کرنسی لیرہ کی قدر میں گراوٹ کے بحران کے پیچھے سیاسی "سازش" کا ہاتھ ہے۔

تُرک کی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابل 40% سے زیادہ خسارے کا شکار ہو چکی ہے۔

واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تناؤ کے بیچ امریکا کی جانب سے ترکی سے درآمد المونیم اور اسٹیل پر ٹیکس میں اضافے کے اعلان کے بعد ایردوآن یہ دھمکی دی ہے کہ اُن کا ملک نئی منڈیاں اور نئے حلیف تلاش کرے گا۔

ادھر ترکی کے وزیر مالیات برائت البیرق کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں نے مارکیٹس کے اندیشوں کو دُور کرنے کے لیے آج سے مطلوبہ اقدامات کر لیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیا منصوبہ نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس میں چھوٹے اور درمیانے بینکس اور کمپنیاں شامل ہوں گی جو کرنسی کے نرخ میں تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ترک صدر کے دفتر میں رابطہ بیورو کے ڈائریکٹر فخرالدین التون نے باور کرایا ہے کہ ترکی کی معیشت طاقت ور ہے اور صدر ایردوآن نے ریاست کے ڈپازٹس کو ہاتھ لگانے کی کوئی بات نہیں کی ہے۔

التون کے مطابق ترکی کو اس وقت ایک ایسی اقتصادی جنگ کا سامنا ہے جس میں رائے عامہ کو فریب دینے پر انحصار کیا جا رہا ہے تاہم ترکی اس جنگ سے کامیاب و کامران باہر آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں