.

اماراتی عدالت ابراج گروپ کے پاکستانی نژاد بانی کے خلاف 26 اگست کو فیصلہ سنائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے دبئی میں قائم ایک پرائیویٹ ایکویٹی فرم ابراج کے پاکستانی نژاد بانی عارف نقوی اور ان کے ایک شریک منتظم کے خلاف جعلی چیک جاری کرنے کے مقدمے کی سماعت مکمل کرلی ہے اور وہ اس کا 26 اگست کو فیصلہ سنائے گی۔

استغاثہ کی دستاویز کے مطابق عارف نقوی اور کمپنی کے ایک اور ایگزیکٹو محمد رفیق لاکھانی نے ابراج گروپ ہی کے ایک اور بانی حصص دار حمید جعفر کو 79 کروڑ 80 لاکھ درہم ( 21 کروڑ 73 لاکھ ڈالرز) کا چیک جاری کیا تھا مگر یہ کیش نہیں ہوا تھا جس پر انھوں نے ان دونوں کے خلاف مناسب رقم کی بنک کھاتےمیں عدم موجودگی کے باوجود چیک جاری کرنے پر نالش کرد ی تھی۔

حمید جعفر کے وکیل اور لافرم التمیمی اینڈ کو سے تعلق رکھنے والے خالد البنی کا کہنا ہے کہ عدالت نے منگل کو مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور وہ 26 اگست کو یہ فیصلہ سنائے گی۔

عارف نقوی کے وکیل حبیب الملّا نے بھی کہا ہے کہ عدالت اسی تاریخ کو فیصلہ جاری کرے گی۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کےدرمیان ماورائے عدالت مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور توقع ہے کہ ان کے درمیان آیندہ تاریخِ سماعت تک کوئی تصفیہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ عارف نقوی پر ابراج گروپ کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔انھوں نے یہ گروپ 2002ء میں دبئی میں قائم کیا تھا اور اس کے زیر انتظام 14 ارب ڈالرز کے مختلف اثاثے تھے۔ابراج گروپ ’’کے مین آئلینڈز‘‘ میں رجسٹرڈ ہے ۔اس کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات منظر عام پر آنےکے بعد اس کے معاملات ایک عدالت نے اپنی نگرانی میں لے لیے تھے اور کے مین آئلینڈز کی اس عدالت نے جون میں اس گروپ کی ری سٹرکچرنگ کے لیے لیکویڈیٹرز کا تقرر کیا تھا۔

ابراج کے زیر انتظام ایک ارب ڈالرز مالیت کے صحت عامہ کے ایک فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے چار اداروں میں سے دو بل اور میلنڈا گیٹس اور عالمی بنک نے رقوم کے غلط استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بعد سرمایہ کاروں نے اپنے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کردیا تھا لیکن ابراج گروپ کسی بھی غلط کاری کی تردید کررہا ہے۔

عارف نقوی نے فروری میں ابراج کے معاملات دو چیف ایگزیکٹوز کے سپرد کردیے تھے اور اس کو دو کمپنیوں ابراج ہولڈنگز اور ابراج انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ( اے آئی ایم ایل) میں تقسیم کردیا تھا اور اے آئی ایم ایل کو فروخت کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ وہ خود اس وقت ابراج ہولڈنگز کے سب سے بڑے حصص دار ہیں ۔

ابراج کے سرمایہ کاری انتظامی کاروبار کے ممکنہ خریداروں میں کویت کی ایجیلٹی فرم اور امریکا کی سنٹرل بریج پارٹنر شامل ہیں ۔اس کی خرید میں دلچسپی رکھنے والے دوسرے گروپ یارک کیپٹل مینجمنٹ اور ابو ظبی فنانشیل گروپ ہیں۔