.

ٹرمپ نے پینٹاگون کے ریکارڈ بجٹ پر دستخط کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سال 2019ء کے لیے وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ریکارڈ بجٹ پر دستخط کر دیے جس کا حجم 716 ارب ڈالر ہے۔

نیویارک میں فورٹ ڈریم عسکری اڈے میں ہونے والی تقریب کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مختص کی گئی رقم امریکی عسکری اہل کاروں کو ایک آتشی قوت فراہم کرے گی جس کی اُن کو کسی بھی مشن میں جلد اور فیصلہ کن کامیابی کے لیے ضرورت ہے۔

ٹرمپ کے دستخط کردہ دفاعی بجٹ میں 69 ارب ڈالر کی رقم بیرون ملک افغانستان، شام، عراق، صومالیہ وغیر میں) جاری کارروائیوں کے لیے ہے۔ مسلح افواج کے اہل کاروں کی تنخواہوں میں 2.6% کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بحریہ، فضائیہ اور دفاعی میزائل نظام کو جدید بنانے کےلیے بھی اربوں ڈالر رکھے گئے ہیں۔

جہاں تک خلائی فورس کا تعلق ہے تو اُس کی تشکیل کے لیے علاحدہ سے فنڈنگ کی ضرورت ہے جس کی کانگریس سے منظوری ناگزیر ہے۔

ٹرمپ کے مطابق فضائیہ ، بحریہ اور زمینی افواج کے ساتھ اب خلا بھی لڑائی کا میدان بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین نے بھی اپنی مسلح افواج میں ایک نئی شاخ قائم کی ہے جو خلا میں اس کے عسکری پروگرام کی نگرانی کر رہی ہے۔

تاہم امریکی صدر نے روس کی "خلائی فورس" کا ذکر نہیں کیا جو کئی برسوں سے موجود ہے۔

ٹرمپ کے مطابق خلاء میں محض امریکی وجود کافی نہ ہو گا بلکہ خلاء میں امریکی غلبہ ہونا چاہیے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے دفاعی پالیسی سے متعلق جس قانون پر دستخط کیے ہیں ان میں امریکی حکومت کے چین کی دو کمپنیوں "ZTE" اور "ہوائی ٹکنالوجیز" کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے ہلکی نوعیت کے ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔

بعض امریکی قانون ساز اس قانون سے فائدہ اٹھا کر "ZTE" کمپنی پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کروانا چاہتے تھے کیوں کہ اُس نے ایران اور شمالی کوریا کو غیر قانونی شکل میں مصنوعات مہیّا کی تھیں۔ تاہم حالیہ قانون میں شامل پابندیاں سابقہ قوانین کی نسبت کمزور ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کے "ZTE" کمپنی کے ساتھ لین دین پر عائد پابندیاں اٹھا دیں۔ اس کے نتیجے میں چین میں کمیونی کشین آلات اور ساز و سامان تیار کرنے والی دوسری بڑی کمپنی کو دوبارہ سے کام کرنے کا موقع مل گیا۔ اس اقدام نے ٹرمپ کو ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس ارکان کانگریس کے ساتھ اختلاف کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کمان کو اندیشہ ہے کہ زیڈ ٹی ایی ، ہوائی اور بعض دیگر چینی کمپنیاں چینی حکومت یا کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر ہیں جس سے جاسوسی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔