بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے حملوں میں معاون ایرانی بحری جہاز امریکی پابندی کی زد میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے بحیرہ احمر میں گذشتہ کئی ماہ سے لنگر انداز ایران کے ایک بحری جہاز کے خلاف پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یمن میں حوثی ملیشیا کو فوجی اور لاجسٹیک امداد دے رہا ہے۔

واشنگٹن کی فری بیکن ویب سائٹ نے امریکی حکام اور عسکری ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحیرہ احمر میں لنگر انداز ’’سویز‘‘ نامی بحری جہاز ایران ہی کا ہے۔اس کو مال بردار جہاز ظاہر کیا جارہا ہے اور اس کے ذریعے حوثیوں کو دوسرے ممالک کے تیل بردار اور مال بردار جہازوں پر حملوں کے لیے معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔حوثیوں نے جولائی کے آخر میں سعودی عرب کے ایک آئیل ٹینکر پر حملہ کیا تھا۔

اس جہاز پر امریکا نے پہلے بھی پابندیاں عاید کی تھیں لیکن سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت 2016ء کے اوائل میں یہ پابندیاں ختم کردی تھیں۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سویز اور دوسرے ایرانی بحری جہازوں پر پابندیوں کے ایک وسیع تر پیکج کے تحت 5 نومبر سے دوبارہ قدغنیں عاید کردے گی۔ان کے تحت ایرن کی بندرگاہوں پر سرگرمیوں ، تجارتی جہاز رانی اور جہاز سازی کے شعبوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایرانی جہاز ’’سویز‘‘ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بحیرہ احمر میں باب المندب کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں لنگر انداز ہے۔اس نے مبینہ طور پر یمنی حوثیوں کی ایک کشتی کو باب المندب کے نزدیک سعودی عرب کے دو آئیل ٹینکروں پر حملوں کے لیے مدد فراہم کی تھی۔

ایران کے بعض خبری ذرائع کے مطابق ایرانی نظام کی جانب سے حوثی ملیشیا کو مہیا کیے گئے بہت سے ہتھیار اسی جہاز سے تیز رفتار کشتیوں پر منتقل کیے گئے تھے اور پھر ان کے ذریعے یمن میں بھیجے گئے تھے۔ان کشتیوں پر 23 ایم ایم بیرل کی توپیں نصب تھیں۔ خود سویز جہا ز پر راڈار نصب ہے حالانکہ مال بردار جہازوں پر کم ہی راڈار دیکھے گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے اشیاء کی حمل ونقل کی جارہی ہو تو انھیں زیادہ دیر تک ایک جگہ لنگر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے چہ جائیکہ ایک جہاز کو قریباً ایک سال تک ایک ہی جگہ اور وہ بھی جنگ زدہ ملک کے نزدیک کھڑا کر دیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے سویز کو دنیا بھر میں سفر کی اجازت دے دی تھی لیکن اب صدر ٹرمپ اس پر روک لگا دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں