یمن کی اقوام متحدہ کی رابطہ کار برائے انسانی امور گرینڈی پر حوثیوں کی طرفداری پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ کی رابطہ کار برائے انسانی امور لیس گرینڈی کو ایرانی نظام کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کی طرف داری پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے مشن پر باغی ملیشیا کی جانب سے فراہم کردہ گم راہ کن معلومات پر انحصار کرنے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یمن کی قانونی حکومت سے کوئی معلومات حاصل کی ہیں اور نہ کوئی ان کا حوالہ دیا ہے۔

یمنی وزیر نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ حوثی ملیشیا جان بوجھ کر شہریوں کو براہ راست حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے تاکہ مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہوا جاسکے۔

لیس گرینڈی حوثیوں کے زیر قبضہ صنعاء میں رہ کر کام کرنے پر مُصر ہیں اور انھوں نے یمن کی قانونی حکومت کی جانب سے عدن منتقلی کی اپیلو ں کو نظر انداز کردیا ہے۔انھوں نے گذشتہ چند روز کے دوران میں صنعا ء میں حوثیوں کی نام نہاد سپریم کونسل کے سربراہ مہدی المشاط سے بھی ملاقات کی ہے۔یہ صاحب یمنی حکومت کی عمل داری کے قیام کے لیے حوثیوں سے برسر پیکار عرب اتحاد کو مطلوب ہیں ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صنعاء میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں سے یمنی حکومت نے اپنے عارضی دارالحکومت جنوبی شہر عدن میں منتقل ہونے کے لیے متعد د اپیلیں کی ہیں کیونکہ انھیں حوثی ملیشیا کے جنگجو ڈرا دھمکا کر بلیک میل کرر ہے ہیں ۔

اقوام متحدہ نے حال ہی میں عراق میں اپنی سابقہ انسانی رابطہ کار لیس گرینڈی کو یمن میں یہی ذمے داری سونپی ہے۔ان کے پیش رو جامی میک گولڈریک پر بھی یمن کی قانونی حکومت نے حوثی ملیشیا کی طرف داری اور متعصبانہ طرز عمل اختیار کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں