.

ایران کے تخریبی کردار کا پوری قوت سے جواب دیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیزر نوورٹ کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ایران کے تخریبی کردار کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ترجمان کا یہ موقف ایرانی رہبرِ اعلی کے اُس اعلان کے جواب میں آیا ہے جس میں علی خامنہ ای نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوورٹ کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کا واضح طور سے اعلان کر چکی ہے اور اُس پر سختی سے کاربند ہے۔

نوورٹ کے مطابق امریکا دنیا بھر میں ایران کے بُرے برتاؤ کے جاری رہنے کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے اور دیگر ممالک بھی ایران کے حوالے سے اسی موقف کے حامل ہیں۔

ترجمان نے باور کرایا کہ امریکا ایران کی پالیسیوں اور شرپسند سرگرمیوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گا۔

اس سے قبل ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے پیر کے روز اپنے خطاب میں مذاکرات کے حوالے سے ایک بار پھر امریکی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔ خامنہ ای نے جوہری سمجھوتے کے لیے کیے جانے والے سابقہ مذاکرات پر بھی اپنی ندامت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ایرانی رہبر اعلی نے امریکا سے کسی بھی مقابلے کو خارج از امکان قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ایران نے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ترقی دے کر اور مشرق وسطی میں اپنی تخریبی پالیسی جاری رکھ کر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسی بنیاد پر رواں برس مئی میں امریکا نے اس معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی اُن تمام پابندیوں کو دوبارہ لاگو کرنے کا بھی اعلان کیا جو اوباما انتظامیہ نے تہران پر سے اٹھا لی تھیں۔