عمررسیدہ خاتون کو کرنٹ لگانے والا امریکی پولیس اہلکاربے قصور قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی پولیس نے ایک عمر رسیدہ شامی خاتون کو برقی پستول[ٹیزر] کے ذریعے جھٹکے لگانے اور اس پر تشدد کے ملزم ایک پولیس اہلکار کو بے قصور قرار دے کر بری کردیا ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق امریکا کی جارجیا ریاست کے پولیس چیف شاٹسورتھ اٹیرریڈگ نے کہا کہ گذشتہ جمعہ کے روز 87 سالہ ایک شامی خاتون ’مارتا البشارۃ‘ اپنے گھر کے قریب چھری کی مدد سے ایک جنگلی سبزی ’ککروندا‘ کے پتے کاٹ رہی تھی۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار نے اسے دیکھا اور چھری نیچے رکھنے کو کہا مگر خاتون انگریزی نہ سمجھ سکی اور چھری لے کرپولیس اہلکار کی طرف بڑھی۔ پولیس اہلکار نے چھری اٹھائے اپنی طرف آنے والی خاتون کو پکڑ کرزمین پر گرادیا، اسے زدوکوب کیا اور اس کے ہاتھ باندھ دیے۔ اس کے بعد اسے برقی پستول کے ذریعے جھٹکے لگائے گئے۔

’این بی سی‘ ٹی وی کے مطابق البشارۃ کی پوتی مرتادون کا کہنا ہے کہ اس کی دادی نے ایسے محسوس کیا جیسے اسے گولیاں ماری گئیں۔ اس کا کہنا تھا کہ برقی پستول’ٹیزر‘ کے ذریعے جھٹکے لگانے کے بارے میں ہم سے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے۔ تاہم پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس نے بوڑھی شامی خاتون کو ’ٹیزر‘ [برقی پستول] سے بجلی کے جھٹکے لگائے تھے۔

پولیس نے نوٹس میں آنے والے اس واقعے میں خاتون کو برقی جھٹکے لگانے پولیس اہلکار کو یہ کہہ کر بری کردیا کہ چھری اٹھا کر خاتون کا اس کی طرف بڑھنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ پولیس اہلکار نے اپنے دفاع میں شامی خاتون کو برقی پستول سے جھٹکے لگائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں