.

ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی، لیرہ کی قدر میں گراوٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی بہترین بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز' نے جمعے کے روز ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ کو+B سے-BB کر دیا ہے اور فیوچر آؤٹ لُک کو 'مستحکم' پر برقرار رکھا ہے۔ دوسری جانب ترکی کی کرنسی لیرہ کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

ایجنسی کے مطابق لیرہ کی قدر میں کمی کے ترکی کی سرکاری مالیات (Public Finance) پر بالواسطہ منفی اثرات ہیں۔ اس سے کمپنیوں کی بیلنس شیٹس متاثر ہوں گی اور مقامی بینکوں پر دباؤ پڑے گا۔

اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز کا کہنا ہے کہ اب وہ توقع کر رہی ہے کہ 2019ء میں ترکی کی معیشت سُکڑ جائے گی۔ ایجنسی نے یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ آئندہ چار ماہ میں افراطِ زر کی شرح 22% کی بلند ترین سطح پر ہو گی۔ لیرہ کی قدر میں گراوٹ نے ترک بینکوں کی فنڈنگ کو درپیش مسائل میں بڑی حد تک اضافہ کر دیا ہے۔

ایجنسی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی خطرات بڑھ جانے کے باوجود اُس کے نزدیک ترکی میں مالیاتی امور سے متعلق حکام کی جانب سے جوابی پالیسیاں ابھی تک محدود نوعیت کی ہیں۔

ادھر "موڈیز" ایجنسی بھی ترکی کی کریڈٹ ریٹنگ کوBA2 سےBA3 کر چکی ہے اور اس نے فیوچر آؤٹ لک کو بھی منفی کر دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق ترکی کو بیرونی فنڈنگ کی بہت زیادہ ضرورت باقی رہے گی اور اس کی ادائیگیوں کے توازن کو بحران کے خطرے کا سامنا ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ ترکی ماضی میں خطرناک اقتصادی اور مالیاتی دھچکوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹ چکا ہے۔ تاہم مالیاتی صورت حال کی سختی اور کرنسی کے نرخ کی کمزوری سے غالب گمان ہے کہ افراطِ زر میں اضافہ اور شرح نُمو میں کمی آئے گی۔

جمعے کے روز کاروبار کے اختتام پر ترکی کی کرنسی کی قدر میں 3.61% کی کمی دیکھنے میں آئی اور ایک ڈالر 6.0250 تُرک لیرہ کے برابر پہنچ چکا تھا۔

اس سے قبل ترکی کی وزارت مالیات یہ کہہ چکی ہے کہ وہ رواں ہفتے ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرہ کے ریکارڈ سطح تک گر جانے کے بعد بینکوں اور پراپرٹی سیکٹر پر دباؤ کم کرنے کے واسطے اقدامات کرے گی۔

وزیر مالیات برائت البیرق نے جمعرات کے روز سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا کہ ترکی اس بحران سے مزید طاقت ور ہو کر نکلے گا جس کو انقرہ ایک تجارتی جنگ قرار دے چکا ہے۔