.

کانگریس میں اخوان المسلمون کا معاملہ گردش میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں خارجہ تعلقات اور انٹیلی جنس بجٹ کی کمیٹیوں نے امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے ایک رپورٹ کی تیاری کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ رپورٹ معروف جماعت الاخوان المسلمون کی سرگرمیوں کی نوعیت کے بارے میں ہو گی۔ یہ پیش رفت ایوان نمائندگان کے اندر اس معاملے کو زیر بحث لانے کے بعد سامنے آئی ہے کہ مذکورہ جماعت امریکا کے لیے خطرہ ہے۔

رپورٹ کی تیاری میں امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے ساتھ تعاون کریں گے۔

کانگریس نے متعلقہ وزراء کو اس رپورٹ کو مکمل کرنے کے لیے ایک سال کی مہلت پیش کی ہے۔ اس مدت کے اندر رپورٹ تیار کر کے امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں خارجہ تعلقات اور انٹیلی جنس بجٹ کی کمیٹیوں کو ارسال کی جائے گی۔

کانگریس کے مطالبے کے مطابق اس رپورٹ میں الاخوان تنظیم کے اثاثوں، مشرق وسطی کے تمام ممالک میں اس کے پیروکاروں اور تنظیم کی تمام شاخوں کی فنڈنگ کے ذرائع کے علاوہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں تنظیم کے ڈھانچے اور قیادت سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔

رواں برس جولائی میں کانگریس میں الاخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔

اقوام متحدہ پہلے ہی اخوان کی کئی شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ ان میں حماس تنظیم اور مصر میں الاخوان المسلمون سے مربوط حسم تحریک شامل ہے۔ تاہم جامع صورت میں الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔