بھارت: کیرالا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 350 سے متجاوز ، وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی جنوب مغربی ریاست کیرالا میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 357 ہوگئی ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوکر امدادی کیمپوں میں مقیم ہیں ۔ سیلاب سے ریاست میں انفرااسٹرکچر کو تین ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا چکا ہے۔

کیرالا میں مئی کے آخر سے طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے پورے پورے دیہات ملیا میٹ ہوگئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اتوار کو بارشوں کا سلسلہ کچھ تھماہے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں زور شور سے جاری ہیں۔

ریاست کے محکمہ اطلاعات کے ایک بیان کے مطابق قریباً تین لاکھ 53 ہزار افراد کو مختلف علاقوں میں قائم کیے گئے 3026 ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔بھارت کی بری فوج ، فضائیہ اور بحریہ کے ہزاروں فوجی اور دوسرے اداروں کے اہلکار سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

کیرالا میں تین ماہ قبل مون سون بارشوں کے آغاز کے بعد سے قریباً بیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اورانھوں نے عارضی طور پر قائم کیے گئے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ حکام نے ان کیمپوں میں پانی اور ہوا کی آلودگی سے پیدا ہونے والے امراض کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے اور ان سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔

سیلاب سے کیرالا کے گیارہ اضلاع میں کئی ایک شاہراہیں اور 134 پُل ٹوٹ گئے ہیں ۔ریاست کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور دشوار گذار راستوں کی وجہ سے وہاں امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کو سیلاب زدہ کیرالا کا مختصر فضائی جائزہ لیا تھا اور اس کے بعد ساڑھے سات کروڑ ڈالرز کی فوری امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ریاست کے وزیراعلیٰ پنرائی وجین نے اس کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے مزید ہیلی کاپٹر ز اور موٹر کشتیاں مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں