قاسم سلیمانی اور حزب اللہ کے عہدے دار کی عراقی حکومت کی تشکیل میں مداخلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے اُمور میں ایران کی مداخلت کسی سے مخفی نہیں۔ عراق کی نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق مذاکرات میں مداخلت کے لیے تہران نے القدس فورس کمانڈر "قاسم سلیمانی" کو عراق بھیج رکھا ہے۔ وہ کئی روز سے نجف شہر میں موجود ہے۔ ایران نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اُس نے لبنانی تنظیم حزب اللہ میں عراقی امور کے ذمّے دار محمد کوثرانی کو بھی اس عمل میں جھونک دیا ہے تا کہ کوثرانی کے توسط سے ایران نواز شیعہ سیاسی شخصیات کو شامل کیا جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کار ناصر الجنابی کا کہنا ہے کہ کوثرانی گزشتہ ہفتے کے وسط سے عراقی دارالحکومت بغداد میں ہے اور ایک شیعہ اتحاد کے انعقاد کے لیے کاوشوں میں مصروف ہے۔ اس کا مقصد ایران کی پیروکار ایک عراقی حکومت کی تشکیل کو یقینی بنانا ہے۔ الجنابی کے مطابق کوثرانی نے مقتدی الصدر کو اس پورے عمل سے دُور رکھا ہوا ہے اور اُس نے نوری المالکی اور مقتدی الصدر کے درمیان اختلافات کو حل نہ کیے جانے کی ہدایت کی ہے۔

مقتدی الصدر کے سائرون گروپ نے جس کو انتخابی نتائج میں برتری حاصل ہے ، اب تک کسی نئی تشکیل کا اعلان نہیں کیا ہے۔ سائرون نے ایاد علاوی اور عمار الحکیم کے گروپوں کے ساتھ نقطہ ہائے نظر میں مطابقت ہونے کا پہلے ہی اعلان کیا ہوا ہے۔ اب وہ دیگر سیاسی گروپوں کو بھی "اِنقاذ الوطن" کے نام سے نئے اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ الفتح سیاسی الائنس کے رکن پارلیمنٹ فالح الخزعلی ایک ٹی وی گفتگو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر آئندہ حکومت "سائرون گروپ" کے بغیر تشکیل دی گئی تو وہ ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی، اس لیے کہ عراقی عوام موجودہ سیاسی طبقے کی کارکردگی سے کسی طور بھی مطمئن اور خوش نہیں ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے تہران مخالف موقف اپنانے کے بعد اُن کے دوسری مدت کے لیے وزارت عظمی سنبھالنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ میڈیا ریسرچ سے متعلق عراقی مرکز کے سربراہ ماجد الخیاط نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ العبادی کے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم ہو جانے کے بعد شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام فتح سیاسی الائنس کا سربراہ ہادی العامری اپنا نام وزارت عظمی کے متبادل نامزد امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ الخیاط کے مطابق اس حوالے سے العامری سنّی سیاسی قیادت کے ساتھ بھی رابطے کر رہا ہے۔

جہاں تک نوری المالکی کا تعلق ہے تو وہ ایران کی مدد سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اگر وہ آئندہ وزیراعظم نہ بھی ہوں تب بھی حکومت کی کُنجی اُن کے ہاتھ میں رہے۔ الخیاط نے واضح کیا کہ طارق نجم، فالح الفياض اور ہادی العامری جیسی شخصیات کے نام پیش کرنے کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ نوری المالکی سیاسی امور کی باگ ڈور اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ایران المالکی کو عراق میں اپنا اہم ترین "آدمی" شمار کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں