اقوام متحدہ جنگ زدہ شام کی تعمیر ِ نو میں حائل ہے: روس کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اقوام متحدہ پر جنگ زدہ شام کی تعمیرِ نو میں حائل ہونے کا الزام عاید کردیا ہے۔

سرگئی لاروف نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے شعبہ سیاسی امور نے گذشتہ سال ایک خفیہ ہدایت نامہ جاری کیا تھا اور اس میں عالمی ادارے کے تحت تنظیموں کو شامی معیشت کی بحالی کے لیے کسی بھی منصوبے میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

انھوں نے ماسکو میں سوموار کو اپنے لبنانی ہم منصب جبران باسیل کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ ان تنظیموں کو سیاسی انتقال اقتدار کے لیے پیش رفت تک صرف امدادی سامان تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی ہے‘‘۔

لاروف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس سے اس معاملے کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ’’ انھوں نے سلامتی کونسل کو اس سے آگاہ کیوں نہیں کیا تھا جبکہ وہ شامی بحران کے حل کی براہ راست نگرانی کررہی ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ (شام کے بارے میں ) فیصلوں میں برسرزمین صورت حال کے بارے میں آگہی اور شفافیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ سیکریٹری جنرل اس معاملے کی وضاحت کریں گے۔

واضح رہے کہ روس نے اپنے اتحادی شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں ستمبر 2015ء میں فوجی مداخلت کی تھی ۔ اس کی فضائی مدد کی بدولت ہی شامی فوج باغی گروپوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس کا ملک کے دوتہائی حصوں پر دوبارہ کنٹرول ہوچکا ہے۔ اب شامی صدر بشار الاسد کی حکومت روس کے ساتھ مل کر دربدر ہونے والے لاکھوں شامی مہاجرین کی گھروں کو واپسی کے لیے مل کر کام کررہی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ ماہ قریباً سات ہزار مہاجرین کی لبنان سے شام واپسی ہوئی ہے۔مہاجرین کی واپسی کے لیے ملک میں صورت حال بتدریج بہتر ہورہی ہے اور ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔

اس موقع پر لبنانی وزیر خارجہ باسیل نے کہا کہ ’’ہم شام کے حوالے سے روس کے مختلف اقدامات کے ضمن میں اس کے حکام کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں۔شام میں صورت حال تبدیل ہوچکی ہے ۔اب بہت سے علاقوں میں سکیورٹی دوبارہ بحال کی جارہی ہے‘‘۔

یادرہے کہ شام میں 2011ء سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر پڑوسی ممالک لبنان ، اردن اور ترکی میں مقیم ہیں اور ا ب ان کی مرحلہ وار واپسی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں