20 لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید کا وقوفِ عرفہ کے بعد مزدلفہ میں پڑاؤ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دنیا بھر سے آئے ہوئے بیس لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید حج کے رکن اعظم وقوفِ عرفہ کی تکمیل کے بعد مزدلفہ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کررہے ہیں اور پھر کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔

اس سے پہلے انھوں نے مکہ مکرمہ کے نواح میں واقع میدانِ عرفات میں خطبہ حج سماعت کیا اور نویں ذی الحجہ کا سورج ڈھلنے تک وہیں قیام کیا۔مسجد نبوی کے امام مفتی اعظم ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج میں مسلمانوں پر نیک اعمال اور اخلاق حسنہ اپنانے اور انھیں بُرے کاموں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سیاست اور معیشت کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

حجاج کرام مزدلفہ میں رات قیام کے بعد منگل کو واپس منیٰ چلے جائیں گے جہاں وہ شیطان (جمرات) کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کریں گے اور اس کے بعد جانور قربان کریں گے۔ یہ عمل تین روز تک جاری رہے گا۔اس دوران میں حجاج کرام اپنے سر منڈوائیں گے اور کعبۃ اللہ کا آخری طواف ''طواف زیارہ'' کریں گے اور یوں ان کے مناسک حج کی تکمیل ہوجائے گی۔

مزدلفہ سے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے خالد العامری نے بتایا کہ حجاج کرام جبلِ عرفات سے نماز ظہر اور عصر ادا کرنے کے بعد روانہ ہوئے تھے اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے مزدلفہ پہنچ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی حکومت نے حج انفراسٹرکچر کے تحت گذشتہ برسوں کے دوران میں عرفات سے مزدلفہ تک مخصوص راستے اور شاہراہیں بنا دی ہیں تاکہ حجاج کرام بآسانی پیدل سفر کرسکیں۔بعض حجاج ذاتی گاڑیوں یا بسوں کے ذریعے بھی یہ سفر طے کررہے ہیں ۔تاہم زیادہ تر پیدل ہی عرفات سے مزدلفہ آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں