یورپی یونین ایران سے ڈیل زندہ رکھنے کے لیے امریکا سے آزاد مالیاتی نظام اپنائے : جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمن وزیر خارجہ حائکو ماس نے کہا ہے کہ اگر یورپ ایران سے جوہری سمجھوتے کو بچانا چاہتا ہے تو پھر اس کو امریکا سے آزاد مالیاتی نظام اپنانا ہوگا۔

انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’ یورپ کی خود مختاری کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے ،اس مقصد کے لیے امریکا سے آزاد رقوم کی ادائی کے چینلز کا قیام ضروری ہے۔ یہ یورپی مالیاتی فنڈ اور ایک آزاد سوئفٹ نظام ہوسکتا ہے‘‘۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ ایران سے ہر روز ڈیل کو زندہ کیا جانا ، دھماکا خیز بحران کو ہوا دینے سے زیادہ بہتر ہے۔اس سے تو مشرقِ اوسط کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں گے‘‘۔ان کا یہ مضمون بدھ کو ایک جرمن اخبار میں شائع ہورہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کو کہا تھا کہ یورپ نے ابھی تک امریکا کی مخالفت میں جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوئی قیمت چکانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور وہ صرف خالی خولی بیانات ہی جاری کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یورپی حکومتوں نے آیندہ نومبر میں امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران کے ساتھ تیل کی تجارت اور بنک کاری کے شعبوں میں تعاون برقرار رکھنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں لیکن ان کے تجویز کردہ اقدامات ابھی تک ان کے بیانات تک ہی محدود ہیں اور انھوں نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد ایران کے خلاف ہٹائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کردی ہیں۔ ان میں سے بعض قدغنوں کا اطلاق 6 اگست سے ہوا ہے اور بعض کا نومبر سے ہوگا۔

سمجھوتے میں شریک تین یورپی ممالک برطانیہ، جرمنی اور فرانس اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ ایران کو اقتصادی فوائد مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن یورپ کی بڑی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے خوف سے ایران سے کاروبار سمیٹ کر واپس جا چکی ہیں یا جارہی ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں