برطانوی، ایرانی شہری نازنین زغری ریٹکلف کی تہران جیل سے تین دن کے لیے رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی حکام نے تہرا ن کی ایوین جیل میں گذشتہ دو سال سے قید برطانوی ایرانی شہری نازنین زغری ریٹکلف کو تین دن کے لیے رہا کردیا ہے۔

اس کے خاوند رچرڈ ریٹکلف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’نازنین کو آج صبح ایوین جیل سے فرلو رہا ئی مل گئی ہے۔اس کے وکیل کو امید ہے کہ رہائی کی اس مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے‘‘۔

برطانوی اور ایرانی شہری نازنین زغری ریٹکلف کو سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے اپریل 2016ء میں تہران کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ وہ اس وقت اپنی دو سالہ بچی کو گود میں اٹھائے ایران میں اپنے خاندان سے ملنے کے بعد واپس برطانیہ جارہی تھیں۔ عدالت نے انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان کی قید کی ایک تہائی مدت جنوری 2018ء میں پوری ہو چکی ہے۔

وہ تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن کی سابق پراجیکٹ مینجر رہی ہیں۔ان پر ایران کے مذہبی علماء کی انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی لیکن اس الزام کی ان کے خاندان اور تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن نے تردید کی تھی۔یہ تھامسن رائیٹرز سے آزاد خیراتی تنظیم ہے اور رائیٹرز نیوز سے بھی آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

ان پر ایسی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے رقوم وصول کرنے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے جو استغاثہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کام کررہی تھیں۔ ان پر لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک مظاہرے میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

نازنین ریٹکلف لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے بھی کام کرتی رہی تھیں۔ایرانی حکام بی بی سی پر بھی ایرانی ملّائیت کے نظام کا تختہ الٹنے کے الزامات عاید کر چکے ہیں۔کچھ عرصہ قبل ان پر سکیورٹی سے متعلق نئے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اس کیس میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے عاید کردہ نئے الزامات پر اس خاتون کو مزید سولہ سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران دُہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا ہے ۔اس لیے ایسے ایرانیوں کو گرفتاری کی صورت میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی ہے اور وہ سالہا سال جیلوں ہی میں سڑتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں