.

الجزائر میں ہیضے کی وبا نمودار، حکام چوکنّے اور مُستعد ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں حکّام نے ہیضے کی وبا کے سبب ایک شخص کی وفات اور درجنوں افراد کے متاثر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ دارالحکومت الجزائر سٹی کے سمیت ملک کے کئی شہر اس وقت ہیضے کی وبا کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ "ہیضے کے سبب پہلی وفات کا اندراج دارالحکومت الجزائر سٹی کے جنوب میں واقع صوبے البلیدہ میں ہوا۔ علاوہ ازیں 14 افراد کے اس مرض میں مبتلا ہوںے کی تصدیق کی جا رہی ہے"۔

ادھر الجزائر کی وزارت صحت میں پِریونٹیشن ڈائریکٹر جمال فورار نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "ہیضے سے متاثر ہونے کے شبہے میں 88 افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اب تک 41 افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے"۔ فورار کے مطابق متاثرہ افراد دارالحکومت الجزائر سٹی کے علاوہ البلیدہ ، البویرہ اور تیبازہ صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

الجزائر کی وزارت صحت کے مطابق ہیضے کی وبا کے پھیلنے کا سبب پینے کے صاف پانی میں آلودہ پانی کا شامل ہو جانا ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو نامعلوم ذرائع سے حاصل ہونے والا پانی استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ہیضے کی وبا پر قابو پانے کے لیے الجزائر کی وزارت صحت نے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس لیے کہ مزید متاثرہ افراد کے لائے جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ متاثرہ افراد کو طبّی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے اور مختلف ٹیسٹوں کے نتائج آنے تک ان افراد سے ملاقات کا سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ الجزائر میں آخری مرتبہ ہیضے کے مریض کا اندراج 1996ء میں ہوا تھا۔ اس سے قبل 1986ء میں 4600 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے تھے۔