.

ایران نے لڑاکا طیارے "کوثر" کے امریکی "ایف-5" ہونے کا اعتراف کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرّب خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ ایرانی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ "کوثر" درحقیقت امریکی طیارے "F-5" میں ترمیم کا نتیجہ ہے۔

ایرانیوں کی ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل کی ہے جس میں ایرانی "كوثر" اور امریکی "ایف-5" کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی کیا گیا ہے کہ 40 برس بعد ایرانی نظام امریکی طیارے "ایف-5" کو روغن کرنے میں کامیاب ہو گیا تا کہ وہ "کوثر" طیارہ بن جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کی سائبر ٹیم نے بھی ایک ٹوئیٹ میں مذکورہ طیارے کے حوالے سے ایرانی دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ (ایرانی) نظام کے عہدے داران ہوابازی کی صنعت کے ارتقاء کے حوالے سے مطلوبہ حد تک مانوس نہیں ہیں۔ اُن کا طیارہ بڑی حد تک اُس لڑاکا طیارے سے مشابہت رکھتا ہے جو امریکا نے کئی دہائیوں پہلے تیار کیا تھا۔ ایران کے پاس اس کا قدیم بیڑہ ہے تاہم دھوکہ ان کا آئیڈیل طریقہ ہے"۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" نے جمعرات کے روز اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ ایرانی طیارہ "کوثر" دراصل امریکی لڑاکا طیارے "ایف-5" کا ترمیم شدہ ورژن ہے جس کو وزارت دفاع کے ماہرین کے ہاتھوں جدید بنایا گیا ہے۔

ایران نے منگل کے روز ایک اعلان میں کہا تھا کہ "کوثر" مقامی طور پر تیار کیا جانے والا پہلا طیارہ ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق "لڑاکا طیاروں کی خریداری پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ایران کے پاس دو ہی آپشن ہیں۔ یا تو لڑاکا طیارے تیار کیے جائیں اور یا پھر اپنے لڑاکا طیاروں کو جدید بنائے۔ مطلوبہ انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے باعث طویل برسوں بعد بھی ایران فورتھ اور فِفتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے تیار نہیں کر سکتا۔ لہذا ایرانی ماہرین امریکی ایف-5 طیارے کو زیادہ جدید جنگی طیارے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے"۔

ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے میں کی جانے والی اہم ترین تبدیلی یہ ہے کہ اسے (ٹربو جیٹ) انجن سے لیس کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسکرینوں کو ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے تبدیل کیا گیا ہے"۔