.

لیبیا: داعش کی پیش قدمی کا سامنا کرنے کے لیے نفیرِ عام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی وفاق کی حکومت کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے عمومی ہائی الرٹ اور انتہائی درجے کی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کی شام یہ اعلان دارالحکومت طرابلس کے مشرق میں سکیورٹی گیٹ پر "داعش" تنظیم کے حملے کے بعد سامنے آیا۔ رواں سال مئی میں انتخابی کمیشن کے صدر دفتر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد لیبیا کے مغربی حصّے میں ہونے والا یہ پہلا حملہ تھا۔

مذکورہ کارروائی میں جمعرات کی صبح لیبیا کے دو شہروں زلیتن اور الخمس کے بیچ واقع "کعام سکیورٹی گیٹ" پر مسلح حملہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 7 عسکری اہل کار ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔

اس کے جواب میں وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں ہائی الرٹ سکیورٹی کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی اہل کاروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی مشتبہ کارروائی یا سکیورٹی خلاف ورزی کی فوری اطلاع دیں تا کہ دہشت گردی کے خلاف کاوشوں کو یکجا کیا جا سکے۔

دوسری جانب وفاق کی حکومت کے سربراہ وزیراعظم فائز السراج کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ "حملہ آروں کو لیبیا مں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں مل سکے گی"۔

حالیہ کچھ عرصے میں سکیورٹی گیٹس کے خلاف داعش تنظیم کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ لیبیا میں سیاسی اور اداتی انقسام کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں یہ دہشت گرد تنظیم دوبارہ اپنی طاقت نہ حاصل کر لے۔