.

بشار کے ساتھ ہمارے تعلقات کا فیصلہ کوئی تیسرا فریق نہیں کرے گا : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب کہ بشار حکومت کی جانب سے اپنی فورسز کو اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے ،،، فعّال علاقائی فریق اس بات کے لیے سرگرم ہیں کہ شامی صوبے اِدلب کے معاملے کو عسکری مداخلت کے بغیر نمٹانے کی کوئی صورت نکل آئے۔

شامی وزیر دفاع علی ایوب نے باور کرایا ہے کہ اِدلب ایک بار پھر وطن کی گود میں واپس آ جائے گا۔ اپنے ایرانی ہم منصب کی میزبانی اور ملاقات کے دوران علی ایوب کا کہنا تھا کہ "شام کی مٹی کو مکمل طور پر دہشت گردی سے پاک کر دیا جائے گا ،،، یا تو مصالحتوں کے ذریعے اور یا پھر زمینی کارروائیوں کے ساتھ"۔

ایرانی وزیر دفاع نے دمشق کے دورے میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ جنگ کے بعد اُن کے ملک کا شام میں مرکزی کردار ہو گا۔ اس سلسلے میں تہران نے سب کو چیلنج کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ شام اور ایران کے بیچ تعلقات کی نوعیت کا فیصلہ "تیسرا فریق" نہیں کرے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی اڈوں اور فورسز پر لگائی جانے والی ضربوں سے ایران لڑکھڑایا نہیں ہے۔