.

بحیرہ روم میں کوئی نئی عسکری کُمک نہیں : پینٹاگون نے روس کو جُھٹلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے روس کے اُن دعوؤں کو حقیقت سے دُور قرار دیا ہے جن میں روسی بیانات اور رپورٹوں کی بنیاد پر کہا گیا تھا کہ امریکا شامی حکومت کے خلاف عسکری ضرب کی تیاری کے سلسلے میں بحیرہ روم میں اپنی عسکری کُمک میں اضافہ کر رہا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان ایرک بیہون نے اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بحیرہ روم میں امریکی عسکری قدرت میں اضافے کے حوالے سے روسی رپورٹیں درست نہیں ہیں ، یہ محض ایک پروپیگنڈہ ہے"۔

تاہم ترجمان نے ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ "اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکی صدر کی جانب سے اس نوعیت کے اقدام کے براہ راست حکم کی صورت میں امریکا ایسا کرنے کے لیے مُستعد نہیں ہے"۔

روسی وزارت دفاع نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہاز "Ross" 25 اگست کو 28 ٹوم ہاک میزائلوں کے ساتھ بحیرہ روم کے پانی میں داخل ہو چکا ہے۔ وزارت دفاع نے زور دے کر بتایا کہ ان میزائلوں کی پہنچ امریکا کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ شام کی تمام اراضی کو نشانہ بنا سکے۔