.

لیبیا : طرابلس میں متحارب ملیشیاؤں میں شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب ملیشیاؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے ایک روز بعد جنگ بندی ہوگئی ہے۔سوموار کو دو مسلح گروپوں کے درمیان ٹینکوں اور مشین گنوں سے لیس پک اپ ٹرکوں سے لڑائی میں پانچ افراد ہلاک اور تینتیس زخمی ہوگئے تھے۔

لیبیا کی سکیورٹی سروسز کے ایک ذریعے نے منگل کے روز بتایا ہے کہ دن بھر کی لڑائی ، دھماکوں اور فائرنگ کے بعد رات کے وقت متحارب ملیشیاؤں میں فائر بند ی ہوگئی تھی۔اس کے بعد آج ان کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔ شہر کے جنوب مشرق میں واقع علاقے عین ذرہ کے مکینوں نے بھی صورت حال پُرامن ہونے کی اطلاع دی ہے۔

طرابلس کے جنوب میں واقع دو علاقوں صلاح الدین اور خالط الفرجان کے مکینوں کا بھی کہنا ہے کہ لڑائی ختم ہوچکی ہے ۔تاہم بعض شاہراہیں ابھی تک ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) سے وابستہ دو متحارب گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔لیبیا کے وزیر داخلہ عبدالسلام آشور کا کہنا ہے کہ طرابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طرحونہ سے تعلق رکھنے والی ملیشیا ساتویں بریگیڈ نے سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑائی چھیڑی تھی۔

یہ بریگیڈ وزارت دفاع کے تحت کام کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے طرابلس کے جنوب مشرق میں واقع اپنے ٹھکانوں پر حملے کو پسپا کردیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کے مطلق العنان سابق حکمران معمر قذافی کی 2011ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول کے لیے مختلف متحارب مسلح گروپوں کے درمیان وفقے وقفے سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔قومی اتحاد کی حکومت اب تک اپنی فوج تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے اور وہ طرابلس کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف ملیشیاؤں پر انحصار کررہی ہے۔

گذشتہ سال ان حکومت نواز ملیشیاؤں نے دارالحکومت سے مختلف مسلح گروپوں کو نکال باہر کیا تھا۔ اس کے بعد شہر میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔