.

محمود احمدی نژاد کی جانب سے سرینا ولیمز کے دفاع میں ٹوئیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے ٹینس اسٹار سرینا ولیمز کے لباس سے متعلق کی جانے والی ٹوئیٹ نے ایرانیوں اور غیر ملکی صحافیوں سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس ٹوئیٹ میں ایک ایسی ریاست کے سابق سربراہ نے "لباس کی آزادی" کا دفاع کیا ہے جہاں خود "خواتین پر لازمی حجاب" لاگو ہے۔ یہاں تک کہ اس ریاست میں 1979ء سے تمام ایرانی خواتین پر نافذ العمل اس نظام کی خلاف ورزی کرنے والی ہر خاتون کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہ ٹوئیٹ ایک ایسے حکمراں نظام کے سابق صدر کی جانب سے سامنے آئی ہے جہاں خواتین کا کھیلوں کے میدان میں داخل ہونا ممنوع ہے اور تمام کھیلوں میں مردوں کی اجارہ داری قائم ہے۔

پیر کی شام کی جانے والی ٹوئیٹ میں احمدی نژاد نے ٹینس کی مشہور امریکی خاتون کھلاڑی سرینا ولیمز کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر ناگواری کا اظہار کیا ہے کہ سرینا کو میچ کے دوران وہ لباس پہننے سے کیوں روک دیا گیا جس کو وہ حالیہ عرصے میں زیب تن کرنے کی عادی تھیں۔ احمدی نژاد نے ٹینس ٹورنامنٹ کے حکام کے اس اقدام کو ٹینس اسٹار کے لیے ہتک آمیز قرار دیا۔

سابق ایرانی صدر کے مطابق تمام مالک میں جن میں ایران شامل ہے، بعض لوگوں نے آزادی کے حقیقی معنی کو جانا ہی نہیں۔

فرانس کی ٹینس فیڈریشن کے صدر برنارڈ جیوڈیسیلی نے "ٹینس" میگزین سے گفتگو میں باور کرایا کہ "آئندہ یہ (لباس) قبول نہیں کیا جائے گا"۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ آئندہ برس فرنچ اوپن چیمپین شپ میں امریکی ٹینس اسٹار کو اُن کا یہ سیاہ لباس (جو غوطہ خوروں کے مخصوص لباس سے ملتا جلتا ہے) پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سرینا ولیمز کا موقف ہے کہ انہوں نے یہ لباس صحت سے متعلق مسائل کے سبب استعمال کیا۔