.

اقوام متحدہ کی امریکا سمیت سات ممالک کو آیندہ ماہ شام امن مذاکرات میں شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا نے امریکا سمیت سات ممالک کو آیندہ ماہ جنیوا میں شامی بحران پر بات چیت کی دعوت دی ہے۔

اقوام متحدہ کی خاتون ترجمان ایلسندرا ویلوچی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ عالمی ایلچی امریکا ، برطانیہ ، سعودی عرب ، اردن ، جرمنی ، فرانس اور مصر کے سینیر نمایندوں سے چودہ جون کو ملاقات کریں گے ۔اس سے دو روز پہلے وہ روس ، ترکی اور ایران کے حکام سے بات چیت کریں گے۔

ترجمان کے مطابق ان ملاقاتوں میں شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دارنے واشنگٹن میں کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات میں شام کے لیے حال ہی میں مقررکردہ خصوصی نمایندے جیمز جیفرے اور ٹرمپ انتظامیہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی جوئیل رے برن امریکا کی نمایندگی کریں گے۔

ڈی میستورا کو شام کے نئے آئین کی ترتیب وتدوین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ذمےداری سونپی گئی ہے۔وہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کی جانب سے ارکان کی نامزدگیوں کے بعد اس کمیٹی کا اعلان کریں گے۔

اقوام متحدہ کےخصوصی ایلچی نے قبل ازیں جون میں بھی ان مذکورہ ممالک کے ساتھ بات چیت کی تھی۔البتہ ان مذاکرات میں مصر شریک نہیں تھا۔اسٹافن ڈی میستورا گذشتہ دو سال سے شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کی میزبانی میں جنیوا میں مذاکرات کے سابقہ دور بے نتیجہ ہی ثابت ہوتے رہے ہیں۔

گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج کی روس اور ایران کی عسکری حمایت سے برسر زمین جنگی کامیابیوں کے بعد سے بحران کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات میں شامی حکومت کو ویسے ہی کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔شامی صدراب فوجی طاقت کے بل پر مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور باغیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں کو بھی اپنی عمل داری میں لانا چاہتے ہیں۔