قطر کا اسلحہ پروگرام دوحہ کے جغرافیائی، آبادیاتی حجم سے بڑا ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مغربی عسکری ماہرین نے کہا ہے کہ خلیجی ریاست قطر کا دفاعی اور اسلحہ پروگرام اس کی آبادی اور جغرافیائی حالات کے مطابق نہیں۔ یہ خیال ایک ایسے وقت میں ظاہرکیا گیا ہے کہ جب دوسری جانب قطری فضائی دفاع کے چیف میجر جنرل احمد ابراہیم المالکی نے کہا ہے کہ دوحہ مزید جنگی آلات،جنگی طیاروں اور جدید حربی سسٹم کے لیے دو فضائی اڈوں کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہے۔ ان فوجی اڈوں پر ’رافال‘ ، ’ایف 15‘ اور ’ٹائیفون’ جیسے جنگی طیارے رکھے جائیں گے۔

’العربیہ‘ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ دوحہ اپنی ضرورت اور گنجائش سے زیادہ اسلحہ جمع کررہا ہے۔ قطری حکومت کے فیصلوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دوحہ عسکری نظریات پر عمل پیرا ہے اور وہ جدید ترین اور وسیع پیمانے پر اسلحہ کے حصول کی لت میں مبتلا ہے۔

قطری فضائی دفاع کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مملکت میں قائم کردہ متعدد فوجی اڈوں میں توسیع سے جنگی طیاروں کو اتارنے اور قطر کے دفاعی نظام میں جدید آلات کو شامل کرنے کاموقع ملے گا۔

دوسری جانب مغربی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر کا حصول اسلحہ کا پروگرام دوحہ کی آبادی اور جغرافیائی حجم کے لیے مناسب نہیں۔

خیال رہے کہ قطر کی مسلح افواج کی تعداد 28 ہزار سے زاید نہیں۔ ان میں فضائیہ سے وابستہ فوجیوں کی تعداد 2500 تک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں