اقوام متحدہ کی یمن کے بارے میں رپورٹ غیر جانبدارانہ نہیں: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد ال جابر نے جنگ زدہ ملک کے بارے میں اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں ’’ جارحیت‘‘ کی اصطلاح کے استعمال کے بارے میں سوال اٹھایا ہے اور اس کو قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ہرگز بھی جانبدارانہ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے حال ہی میں جاری کردہ اس رپورٹ میں عرب اتحاد کی الحدیدہ کی بندرگاہ کو حوثی ملیشیا سے بازیاب کرانے کے لیے کارروائی سے متعلق جارحیت کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

ال جابر نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’یمن کی قانونی حکومت اور عرب اتحاد کی ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے قبضے سے الحدیدہ کی بندرگاہ کی بحالی کے لیے کارروائی کو ماہرین کے گروپ کا جارحیت قراردینا نہایت قابل اعتراض ہے اوراس سے رپورٹ کے مندرجات کی غیر جانبداری اورمعروضیت کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوگئے ہیں‘‘۔

یمن میں قانونی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف برسرپیکار عرب اتحاد نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو جائزے کے لیے اپنے قانونی ماہرین کے سپرد کردیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اقوام متحدہ کے بعض عہدے داروں کی جانب سے اتحاد کے کام کے بارے میں بے بنیاد بیانات پر حیرت کا اظہار کیا ہے ۔انھوں نے سوموار کو الریاض میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ان عہدے داروں نے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر غلط موقف اختیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم اقوام متحدہ کی انسانی امدادی تنظیموں پر حوثیوں کے دباؤ سے آگاہ ہیں لیکن اقوام متحدہ کو حوثیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں