یو این ماہرین کی ’جانبدارانہ ‘ رپورٹ کا قانونی جواب دیا جائے گا: عرب اتحاد

رپورٹ میں یمن میں حوثی ملیشیا کی حمایت میں سرگرم ایران کے کردار کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں حوثی شیعہ باغیوں سے برسرپیکار عرب اتحادنے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے ابتدائی جائزے کے بعد کہا ہے کہ یہ غیر جانبدارانہ نہیں ہے اور اس کا قانونی انداز میں جواب دیا جائے گا۔

عرب اتحادنے اس رپورٹ کے ابتدائی جائزے کے بعد اس میں اٹھائے گئے بعض نکات کی حسبِ ذیل وضاحت کی ہے اوربعض حقائق کی نشان دہی بھی کی ہے جن کا رپورٹ میں بہ اندازِ دیگر ذکرکیا گیا ہے:

۱۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے دسمبر 2017 ء میں ماہرین کے گروپ کی تشکیل کے بعد سے عرب اتحاد اس کے ساتھ کھلے اور شفاف انداز میں تعاون کا خواہاں رہا ہے۔اس گروپ کے ارکان اور ماہرین کی سعودی دارالحکومت الریاض میں واقع عرب اتحاد کے ہیڈ کوارٹرز میں دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

ان ملاقاتوں میں گروپ کی جانب سے پیش کردہ تمام سوالوں کے شواہد کے ساتھ جوابات دیے گئے تھے اوران کی وضاحت کی گئی تھی۔ماہرین کو جنگی کارروائیوں کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے ان کی ٹیم کے عرب اتحادی افواج کے آپریشنز سنٹر کے دورے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔اتحاد نےٹیم کےیمن کے دورے کے لیے بھی سہولت مہیا کی تھی ، اس کی ضروریات کو پورا کیا تھا اور ہائی کمشنر کے دفتر کو ایک جامع رپورٹ کی شکل میں معلومات فراہم کی تھیں۔اس میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور یمن کو پیش کیے گئے تمام سوالوں کے جواب دیے گئے تھے۔

اس تناظر میں عرب اتحاد کو پینل کے رپورٹ میں بیان کردہ طریق کاراور اس دعوے پر افسوس ہے کہ اس نے جو بھی سوال پیش کیے تھے،ان کا اس کو کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔

۲۔یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں برسرپیکار عرب اتحاد اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔اس سے پہلے بھی بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے تحت شہریوں کے جان ومال کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے۔

۳۔ رپورٹ میں یمن میں انسانی امداد کی بہم رسانی سے متعلق بہت سے غلط بیانیاں کی گئی ہیں اور عرب اتحاد پر یہ بے بنیاد الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کی انسانی امداد تک رسائی میں حائل ہورہا ہے۔اس ضمن میں اتحاد واضح کرتا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ اور دوسری امدادی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہوا ہے تاکہ یمن میں شہری آبادی تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے اور تجارتی اشیاء کی بلا تعطل آمد کا سلسلہ جاری رہے۔

عرب اتحادکو اس بات پر بھی سخت حیرت ہوئی ہے کہ یمن میں اتحادی ممالک کی جانب مہیا کردہ انسانی امداد اور خدمات کو یکسر فراموش کردیا گیا ہے۔ان کی جانب سے یمن کے غربت زدہ عوام کے لیے مہیا کی جانے والی امداد کا کماحقہ ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ ا س سے کیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اورکویت نے حال ہی میں یمن میں امدادی سرگرمیوں کے لیے خطیر رقم مہیا کی ہے اوران تینوں ممالک نے یمن میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیموں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ارب اسّی کروڑ ڈالرز مہیا کیے ہیں۔

۴۔ یہ رپورٹ بہت سے غلط طریق ہائے کارکو بروئے کار لاکر مرتب کی گئی ہے۔اس میں حقائق کو معروضی انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ اس میں غیر جانبداری نظر آئی ہے۔حد تو یہ ہے کہ اس میں یمن میں جاری تنازع کی ذمے داری عرب اتحاد میں شامل ممالک پر ڈال دی گئی ہے اور بحران کے اصل سبب حوثیوں کی ایک قانونی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور سرکاری اداروں پر قبضے کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔حوثیوں نے جس طر ح اقوام متحدہ کے تحت امن کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے اور تنازع کے پُرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں،ان کا بھی تذکرہ نہیں کیا ہے۔

۵۔رپورٹ میں بعض غیرسرکاری تنظیموں( این جی اوز) کی گم راہ کن اطلاعات کی بنیاد پرعرب اتحاد پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔اس میں عرب اتحادی فورسز پر شہریوں کو ہدف بنانے ، انسانی امدادتک رسائی میں پابندیاں ، بلا تفریق پکڑ دھکڑ ، جبری گم شدگی ، تشدد اور ناروا سلوک ،اظہار رائے کی آزادی پر پابندی، جنسی تشدد اور بچوں کی بھرتی ایسے الزامات شامل ہیں حالانکہ یہ تمام کام حوثی باغی کررہے ہیں۔

عرب اتحاد نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کے ساتھ ملاقاتوں میں ان تمام الزامات کو مسترد کیا تھا اور اس کو اپنا تفصیلی جواب فراہم کیا تھا لیکن بدقسمتی سے ماہرین کے گروپ نے رپورٹ میں عرب اتحاد کے اس ردعمل کو شامل ہی نہیں کیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک جانبدارانہ اور غیر متوازن رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔

۶۔اتحاد نے رپورٹ کے ضمیمے میں اتحادی ممالک کے کمانڈروں اور حکام کے ناموں کا حوالہ دینے کی مخالفت کی تھی۔وہ بالاصرار یہ بات کہتا ہے کہ پینل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جائزے کے وقت من چاہا اور دُہرا معیار اپنایا تھا۔اس کے پاس تمام حقائق کے بہ نظر غائر جائزے کے لیے وقت اور وسائل بھی کم تھے اور اس کو کام کے لیے محض چھے ماہ کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ عرب اتحاد نے پینل کی رپورٹ میں تجزیے اور سفارشات میں سقم کی بھی نشان دہی کی ہے۔بالخصوص بحران کے کرداروں کی براہ راست کی شناخت کردی گئی ہے اور رپورٹ کے ضمیمے میں بعض مخصوص ناموں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

۷۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یمن میں عرب اتحادی ممالک کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق دستاویزات تھیں اور عینی شاہدین نے بھی ان کے بارے میں بتایا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اقوام متحدہ کی ٹیم نے اتحادی ممالک کو ملاقات کے وقت یہ دستاویز پیش نہیں کی تھیں تاکہ ان میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے بعد تصدیق کی جاسکتی اور ان کے ازالے کے لیے ذمے داروں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جاسکتی۔ اس پینل کی ایک ذمے داری متعلقہ فریقوں سے معلومات کا تبادلہ کرنا اوران سے تعاون کرنا تھا تاکہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا جاسکتا مگر وہ اس میں ناکام رہا ہے۔

۸۔ اتحاد میں شامل ممالک رپورٹ کے بیشتر مندرجات اورنتائج بالخصوص پیرا ۱۰۶، ۱۰۸ (اے ) ( بی) اور ۱۰۹ سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

۹۔ رپورٹ میں یمن میں حوثی ملیشیا کی مسلسل حمایت میں سرگرم ایران کے کردار کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ عرب اتحاد نے بین الاقوامی میکانزم کو اس کے خلاف ٹھوس اور واضح شواہد مہیا کیے تھے۔ان شواہد کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں عاید کرنے کی ذمے دار کمیٹی کے ماہرین کے پینل نے اپنی رپورٹ میں بھی تذکرہ کیا تھا۔یہ پینل سلامتی کونسل کی ۲۰۱۴ء میں منظور کردہ قرارداد نمبر ۲۱۴۰ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

۱۰۔ رپورٹ میں یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کی جانب راکٹ حملوں کا اگرچہ تذکرہ کیا گیا ہے لیکن اس راکٹ باری اوربیلسٹک میزائلوں کے حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے اوران سے ہونے والے جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں